انتہا پسندی کا مرض اورعلاج
انتہا پسندی کا مرض اور علاج
ایک مکالمہ
(مریض کلینک میں داخل ہوکر ڈاکٹر کے پاس ایک اسٹول پر معائنے کی غرض سے بیٹھ جاتا ہے۔)
مریض-: السلام علیکم ڈاکٹر صاحب!
ڈاکٹر -: (مغرب کا دلدادہ اور روشن خیال)
Good Morning
(صبح بخیر)۔
مریض-: ڈاکٹر صاحب! میں بہت بیمار رہنے لگا ہوں۔ برائے مہربانی میرا علاج فرمادیں۔
ڈاکٹر -: (چہرہ اور اثراتِ چہرہ نوٹ کرنے کے بعد)
تمہیں قوم ، ملت اور امت کا درد ہے۔ ‘’انتہا پسندی’’ کا ‘’بخار’’ اور ‘’دہشت گردی’’ کا ‘’السر’’ ہے لیکن فکر مت کرو میری دوائی سے تمہارا یہ درد ‘’بالکل ختم’’ ہوجائے گا۔ ویسے یہ امراض بہت ‘’خطرناک’’ ہیں۔
مریض-: (پریشان ہوکر) جناب کیا اس بیماری سے انسان مرجاتا ہے؟
ڈاکٹر -: جی نہیں۔۔۔۔۔۔ لیکن اتنے ‘’خطرناک مریض’’ سے جراثیم دوسرے لوگوں کو منتقل ہونے کا خطرہ ہوتا ہے ،لہٰذا ‘’حفظ ماتقدم’’ کے طور پر ‘’پروفیسر سام’’ کے حکم سے اس کو ‘’زمین بُرد’’ کردیا جاتا ہے۔
مریض-: ڈاکٹر صاحب! یہ ‘’پروفیسر سام’’ کون ہے؟
ڈاکٹر -: (ہنستے ہوئے) تم پروفیسر سام کو نہیں جانتے۔ یہ سات سمندر پار کا وہی پروفیسر ہے جو تمام دنیا کے سرکردہ ڈاکٹروں (حکمرانوں) کو تربیت ، حکم اور سرٹیفکیٹ جاری کرتا ہے۔
مریض-: جناب اس پروفیسر کے حکم کی کیا اہمیت ہے؟
ڈاکٹر -: (کانوں کو ہاتھ لگاتے ہوئے) تم بہت انجان اور بھولے بھالے معلوم ہوتے ہو۔ لو پھر سنو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اگر کوئی ڈاکٹر پروفیسر صاحب کا حکم ماننے سے انکار کردے تو پروفیسر صاحب فوراً جان جاتے
(Diagnosis )
کرلیتے ہیں کہ اس ‘’ڈاکٹر’’ کو ‘’مریضوں’’ کے ساتھ میل ملاپ رکھنے سے ‘’انتہا پسندی کا بخار’’ اور ‘’ٹیررازم کا سرطان
(Cancer)’‘
ہوچکا ہے۔ جو مزید کئی ‘’ڈاکٹروں’’ کو منتقل ہوسکتا ہے۔ لہٰذا پروفیسر صاحب کے حکم پر اسے ‘’کروز فینک
(Cruise Fenac)’’
کا انجکشن لگایا جاتا ہے۔ حالت زیادہ خراب ہونے پر B-52 ایمبولینس’’ کے ذریعے ‘’پتھر ہسپتال’’ منتقل کیا جاسکتا ہے، لہٰذا فوری حکم مان لینا بہت بڑی سعادت مندی ہے۔
مریض-: (تجسس سے) جناب کیا کبھی کسی ڈاکٹر نے پروفیسر سام کا حکم نہ ماننے کی جسارت کی ہے؟
ڈاکٹر -: جی ہاں۔ ہمارے ساتھ والے ‘’محلے’’ میں ‘’ڈاکٹر عمر’’ صاحب رہتے ہیں۔ ان کے ‘’محلے’’ میں پچھلے کئی سالوں سے اس ‘’بیماری’’ کے جراثیم ‘’خطرناک’’ حد تک بڑھ گئے تو پروفیسر سام کو فکر لاحق ہوئی کہ کہیں یہ جراثیم ان کے ‘’محلے’’ تک نہ پہنچ جائیں ، لہٰذا بیماری کے تدارک کے لئے انہوں نے بار بار ‘’ڈاکٹر عمر’’ کو ‘’نسخہ’’ لکھ کر بھیجا۔ لیکن انہوں نے یہ ‘’نسخہ’’ استعمال کرنے سے انکار کردیا۔ نتیجتاً پروفیسر صاحب خود اس ‘’محلے’’ میں ‘’تشریف’’ لے آئے، تاکہ ‘’جہادی فالج’’ میں مبتلا ڈاکٹر اور اس کے محلے والوں کا علاج کیا جاسکے۔ یہ بڑے دکھ کی بات ہے کہ ڈاکٹر عمر کی ‘’گستاخی’’ کی وجہ سے پروفیسر صاحب کو سات سمندر پار سے خود آنا پڑا۔
مریض-: تو کیا جناب وہ تمام مریض ٹھیک ہوگئے؟
ڈاکٹر -: نہیں۔ ان میں سے اکثر مریض ‘’پاگل’’ ہوگئے۔ انہوں نے پروفیسر صاحب کے ‘’میڈیکل کیمپ’’ پر حملے کئے اور ان کے کئی ‘’کمپاؤنڈروں (Dispensers)’‘
کو موت کے گھاٹ اتار دیا جبکہ بقیہ مریضوں کو
’‘Tab. MOM’‘
کھلاکر سلادیا گیا۔
مریض-: بھلا ڈاکٹر عمر نے پروفیسر سام کا حکم کیوں نہ مانا؟
ڈاکٹر -: (آہ بھر کر) ‘’ڈاکٹر عمر’’ نے چھوٹی سی ‘’غلطی’’ کرکے اپنا ‘’محلہ’’ تباہ کروالیا۔ ہوا یوں کہ پروفیسر سام نے ‘’ڈاکٹر عمر’’ کو
"Syp Nifakoze"
خود اور مریضوں کو استعمال کروانے کی ہدایت کی لیکن ڈاکٹر عمر نے اتنی ‘’کڑوی دوا’’ پینے اور پلانے سے انکار کردیا ، لہٰذا مجبوراً پروفیسر صاحب خود اس ‘’مقدس مشن’’ میں مصروف ہوگئے۔
مریض-: یہ تو ڈاکٹر عمر نے بہت برا کیا جو ‘’پروفیسر سام’’ کا کہنا نہ مانا۔
ڈاکٹر -: بالکل ٹھیک کہا تم نے۔ پروفیسر صاحب کا حکم نہ ماننا سراسر بے ادبی اور بے وقوفی ہے۔ یہ سب لوگ جو حکم نہیں مانتے ‘’گستاخ
(rude)’‘
ہیں۔
مریض-: (اکتاکر) چھوڑیئے ڈاکٹر صاحب ان تمام باتوں کو۔ اب میرا علاج کیسے ممکن ہے؟
ڈاکٹر -: آپ کا علاج سوفیصد (100%) ممکن ہے ،مگر آپ کو کچھ ادویات کا استعمال اور احتیاطیں کرنا ہوں گی تاکہ آپ مکمل صحت یاب ہوکر دنیا کی رنگینیوں سے لطف اٹھا سکیں۔ (ڈاکٹر نسخہ لکھ کر سمجھاتے ہوئے) یہ پیلی والی گولی
‘’Tab.Mordernofin(500mg)’’
ہے جو آپ کو قوم اور ملت سمیت امت کے درد سے نجات دے گی۔ےہ گولی تین بار کھانی ہے۔ یہ دوسری لال والی
Anti jihadocine
ہے جسے اینٹی فنڈامنٹلسٹ کیپسول فنڈالون
’‘Cap. Fundalone(1000mg)’‘
کے ساتھ صبح شام لینا ہے۔اورہاں یہ یونانی شربت
’‘Syp. Roshan Khayaly’‘
شربت ‘’روشن خیالی’’ چار چار گھنٹے پر ضروراستعمال کریں۔اس کا کوئی سائڈ ایفکٹ نہےں ہے ۔ ایک اور بات کا خاص دھیان رکھیں کہ آج کل بازار میں نقلی دوائیں بہت آگئی ہےں ۔لیکن ابھی بھی’‘کمیونسٹو فارما سیوٹیکلز’’ (Communisto Pharmaceuticals)’‘
کی دوائیں بہتر ہیں۔
مریض-: لیکن ڈاکٹر صاحب یہ دوائی ملے گی کہاں؟
ڈاکٹر -: (کلینک کے شیشے میں سے باہر اسٹور کی طرف اشارہ کرتے ہوئے) وہ سامنے ‘’بے غیرت کیمسٹ اینڈ ڈرگسٹ’’ ہے۔ اس کے بالکل ساتھ ‘’سیکولر میڈیکوز’‘ہے ،وہاں آپ کو ےہ دوائیں انتہائی آسانی سے مل جائےں گی۔ اگر پھر بھی مشکل پیش آئے تو میرا اسسٹنٹ باہر بیٹھا ہے جو آپ کی اچھی طرح رہنمائی کرے گا۔
مریض-: ڈاکٹر صاحب! میں غریب آدمی ہوں۔ میرے پاس اتنی ساری دوائی خریدنے کے لئے پیسے کہاں سے آئیں گے؟
ڈاکٹر -: احمق یہ دوائی روپے پیسے سے نہیں غیرت کے بدلے میں ملتی ہے۔
مریض-: (ہڑبڑاکر) یعنی آپ کا مطلب ہے کہ میں بے غیرت بن جاؤں !
(انتباہ کرتے ہوئے) کان کھول کر سن لیجئے ڈاکٹر صاحب! میں اسی ‘’بیماری’’ میں مرنا اعجاز سمجھوں گا لیکن میں اتنا بھولا بھالا بھی نہیں کہ بے غیرت بن کر جیؤں اور رہی بات پروفیسر سام کی تو میں اسے بھی خوب اچھی طرح ‘’دیکھ’’ لوں گا۔
(مریض نسخہ
(Prescription)
پھاڑ کر ڈاکٹر کی میز پر پھینکتا ہے اور بڑبڑاتا ہوا کلینک سے باہر نکل جاتا ہے۔)
- متفرق, روز مرہ زندگی کے معاملات, اردو | Time: 3:55 pm (UTC+8) No Comments »






![Validate my RSS feed [Valid RSS]](/images/validrss.png)

















