اسلامی جمہوریہ پاکستان زندہ باد


December 31, 2006

٭گوشت ضرور کھائیں لیکن ذرا احتیاط سے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔٭

عید قربان مبارک ہو

عیدالاضحٰی پروٹین حاصل کرنے کا بہترین موقع ہے

 ٭گوشت ضرور کھائیں لیکن ذرا احتیاط سے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔٭ جوڑوں کے درد ‘ہائی بلڈ پریشرکے مریض قربانی کا گوشت اعتدال سے کھائیں گوشت کے ساتھ سلاد ‘پودینہ ’ لیموں اور دہی کا رائتہ ضرور استعمال کریں ‘پانی زیادہ پئیں :حکیم قاضی ایم اے خالد ٭دل کے مریض گردے ‘مغز’سری پائے’اور کلیجی نہ کھائیں٭بھنے ہوئے گوشت کی بجائے بھاپ سے تیار شدہ اور ابلا ہوا گوشت زیادہ بہتر ہے ٭یورک ایسڈ کی زیادتی اور گردوں کے مریض گوشت کا استعمال معالج کے مشورے کے مطابق کریں۔ لاہور (نمایندگان پرنٹ و الیکٹرانک میڈیا )عیدالاضحی پروٹین حاصل کرنے کا بہترین موقع ہے۔گوشت ضرور کھائیں لیکن اس ضمن میں اعتدال اور احتیاطی تدابیر کو بھی ملحوظ خاطر رکھیں ۔مرکزی سیکرٹری جنرل کونسل آف ہربل فزیشنزپاکستان اور یونانی میڈیکل آفیسرحکیم قاضی ایم اے خالد نے عید قربان کے موقع پر گوشت کھانے میں احتیاط کا مشورہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ گوشت کے پکوانوں میں زیادہ مرچ مصالحے نہ ڈالیں نیز ان پر سبز دھنیے کی گارنش ضرور کریں گوشت کے ہمراہ سلادخصوصاًپودینہ ‘لیموں اوردہی کا رائتہ ضرور استعمال کریں ۔ایسی چٹنیاں جن میں زیرہ پودینہ اجوائن شامل ہو، کا استعمال مفید ہے۔گوشت کا مزاج گرم ہے اس لئے اسے معتدل کرنا ضروری ہے۔اس کےلئے گوشت کھانے کے ساتھ ساتھ سبزیوں کا استعمال بھی جاری رکھیں،سبزیوں میں ٹماٹر، پھلیاں، سلاد (مولی گاجر چقندر مٹر)کا استعمال مفید ہے واضح رہے کہ کھیرا سردیوں میں استعمال نہیں کرنا چاہئے۔ پانی کا استعمال زیادہ سے زیادہ کریں ۔ابلا ہوا یا بھاپ میں تیارکیا ہواگوشت بھنے ہوئے گوشت سے بہت بہتر ہے ۔گوشت کا ضرورت سے زیادہ استعمال اگر فوری طورپرنقصان نہ دے تو بھی آنے والے دنوں میں کئی دیگر امراض کا سبب بن سکتا ہے جوڑوں کے درد ‘ہائی بلڈ پریشراور شوگر کے مریض گوشت کم کھائیں۔یورک ایسڈ کی زیادتی اور گردوں کے مریض گوشت کا استعمال اپنے معالج کے مشورے پرہی کریں ۔خصوصاً دل کے مریض چربی والا گوشت ‘گردے ’ مغز’سری پائے ‘کلیجی وغیرہ استعمال نہ کریں کیونکہ چربیلے مادے کولیسٹرول کی شکل اختیار کر لیتے ہیں ۔ بکرے کا گوشت ہر عمر اورہر مرض کے افراد کے لئے ضروری ہے جبکہ گائے کا گوشت خارش جگر ہائی بلڈ پریشر ہائی کولیسٹرول بواسیر شوگر کے مریض احتیاط کے ساتھ استعمال کریں۔ گائے کے گوشت میں کولیسٹرول بکرے کے گوشت کی نسبت زیادہ ہوتا ہے جبکہ اونٹ کے گوشت میں کولیسٹرول بہت کم ہوتا ہے۔گوشت کھانے کے فوراً بعد پانی پینے سے دل کی تکالیف مزید بڑھ سکتی ہیں لہذا گوشت کھانے کے فوراً بعد پانی پینے سے اجتناب کیا جائے ۔ اسکے علاوہ ضروری ہے کہ قربانی کے گوشت والے ایک کھانے کے بعد دوسرے کھانے میں کم از کم 5 سے 6 گھنٹے کا فرق رکھا جائے۔عید الاضحی کے موقع پراکثر حلق میں ہڈی پھنسنے کے واقعات رونما ہوجاتے ہیں ۔لہذا ہڈی والا گوشت کھاتے ہوئے خصوصی احتیاط برتیں خصوصاًچھوٹے بچوں کو بغیر ہڈی کے گوشت اپنی نگرانی میں کھلائیں ۔

December 29, 2006

٭ اونٹ کا گوشت کھائیں’ بیماریاں دور بھگائیں٭

٭بقر عید مبارک ہو٭
٭ اونٹ کا گوشت کھائیں’ بیماریاں دور بھگائیں٭
٭اونٹ کا گوشت کھانے سے کئی بیماریاں دور ہوجاتی ہیں:حکیم قاضی ایم اے خالد٭
٭ اونٹ کا گوشت بخار ‘عرق ا لنساء (شیاٹیکا)کالا یرقان ‘ہیپاٹائیٹس سی اوراعصابی وجسمانی کمزوری کا بہترین علاج ہے٭

لاہور ( نمایندگان پرنٹ و الیکٹرانک میڈیا)اونٹ کا گوشت عام طور پر شاذوناظر ہی ملتا ہے لیکن عید قربان پر یہ گوشت بھی وافر مقدار میں ہوتا ہے اور جنہیں یہ گوشت میسر آجائے وہ بہت سی امراض سے بچ سکتے ہیں ۔افادہ ِعام کےلئے مرکزی سیکرٹری جنرل کونسل آف ہربل فزیشنزپاکستان اور یونانی میڈیکل آفیسرحکیم قاضی ایم اے خالد نے اونٹ کے گوشت کے فوائد سے آگاہ کرتے ہوئے کہاہے کہ اونٹ کا گوشت بخار ‘عرق النساء (شیا ٹیکا ) سیاہ یرقان ‘ہیپا ٹائٹس سی اور پیشاب کی جلن میں مفید ہے اعضائے رئیسہ کی طاقت اور تقویت باہ کےلئے بھی مستعمل ہے ۔اعصابی کمزوری اور جسمانی کمزوری میں فائدہ مند ہے ۔مذکورہ بالا فوائد حاصل کرنے کےلئے اس کی مقدار خوراک ایک سو گرام ہے بواسیر کےلئے اونٹ کی چربی کا لیپ انتہائی مفید ہے ۔لہذا عید الا ضحی پر اگر یہ گوشت مل جائے تو اس سے استفادہ حاصل کرنے کا موقع ہاتھ سے جانے نہ دیا جائے ۔

December 21, 2006

پاکستان بھر میں آج طب یونانی کا قومی دن منایا جا رہا ہے

موجودہ صدی طب یونانی کی صدی ہے :حکیم قاضی ایم اے خالد

دنیا کی 86فیصداور پاکستان کی76فیصد آبادی ہربل ادویات استعمال کرتی ہے۔طب یونانی کے دن پر خطاب

لاہور( نمایندگان پرنٹ و الیکٹرانک میڈیا )ملک بھر میںطب یونانی کا قومی دن طبی جوش و جذبہ کے ساتھ منایا گیا۔اس موقع پر سیمینارز’نمائشوں اور فری طبی کیمپس کاانعقاد کیا گیا۔کونسل آف ہربل فزیشنز پاکستان کے زیر اہتمام منعقدہ ایک سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کونسل کے مرکزی سیکرٹری جنرل اور یونانی میڈیکل آفیسرحکیم قاضی ایم اے خالد نے کہا کہ21۔دسمبر 1978ء کا دن اطبائے پاکستان اور طب یونانی اسلامی نیز اس سے تعلق رکھنے والے ہر فردکےلئے انتہائی اہم اور تاریخ ساز دن تھااس دن محسنِ طب اسلامی صدر اسلامی جمہوریہ پاکستان جنرل محمد ضیاء الحق نےآل پاکستان طبی کانفرنس بلوا کرطب اسلامی کو باقاعدہ سرکاری طور پر تسلیم کیا اور اس سلسلے میں مراعات و سرکاری طبی اداروں اور عہدوں کا قیام عمل میں لایا گیا ۔فیڈرل گورنمنٹ میں طب کی وزارت قائم کی گئی۔مشیر طب کی تقرری کا فیصلہ کیا گیا اوریہ عہدہ شہید پاکستان حکیم محمد سعید کو تفویض کیا گیا ۔آج ہم یہ دن تجدید عہد کے دن کے طور پر منا رہے ہیں۔انہوں نے کہاکہ موجودہ صدی طب یونانی کی صدی ہی اس کا ہر سال طب یونانی کا سال ہے ۔
ورلڈہیلتھ آرگنائزیشن (WHO)کی رپورٹ کےمطابق جدید میڈیکل سائنس کی بے پناہ ترقی کے باوجود دنیا کی  86فیصد آبادی ہربل ادویات استعمال کر رہی ہے جبکہ اقوام متحدہکے فنڈبرائے آبادی کے مطابق پاکستان کی 76فیصد آبادی مختلفامراض کے سلسلے میں طب یونانی کی ہربل میڈیسنز کا استعمال کرتی ہے۔لہذاطب یونانی کی صنعت دواسازی کو فروغ دیکر پاکستان کروڑوں ڈالر کا زرمبادلہ کما سکتا ہے ۔سیمینار سے حکیم ذوالفقار علی ‘حکیم محمد صابر ‘حکیم محمد افضل میو اور دیگر نے خطاب کیا۔# # #
ا