اسلامی جمہوریہ پاکستان زندہ باد


October 23, 2006

عید کے دن روزہ دار افرادکھانے پینے میں خصوصی احتیاط برتیں:حکیم قاضی ایم اے خالد

 

لاہور (نمائیندگان پرنٹ و الیکٹرانک میڈیا)مرکزی سیکرٹری جنرل کونسل آف ہربل فزیشنزپاکستان اور یونانی میڈیکل آفیسرحکیم قاضی ایم اے خالد نے عیدالفطر کے موقع پرروز ہ دار افراد کو کھانے پینے میں احتیاط کا مشورہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ مہینہ بھر روزے رکھنے کے بعد معدہ ‘جگر’انتڑیوں ‘گردوں ‘پٹھوںاور جسم کے دیگر اعضاء کو مختلف امراض سے شفااورجو آرام میسر آتا ہے بعض افراد اسے ایک ہی دن میں خوب کھاپی کرضائع کر بیٹھتے ہیں۔ عید کے دن مرغن غذائیںمثلاًروسٹ’ بروسٹ’تکے ‘کباب’کڑاہی گوشت’ہریسہ’قورمہ’بریانی’حلوہ پوری’قتلمہ’کیک ‘مٹھائیاں وغیرہ اورکولا مشروبات کا بے انتہا استعمال کرکے بیمار ہوجاتے ہیں۔

ہمیں ایک ماہ تک اپنے جملہ اعضاء کو آرام دینے کے بعد زود ہضم غذا کی ضرورت ہوتی ہے لہذایکدم بہت زیادہ مرغن غذاؤوں کے استعمال سے بچیں۔

عید کے دن ناشتے میں دودھ سویاں’دوپہرکو سبزی گوشت جبکہ رات کو بھی سادہ غذا کا استعمال کریں اس دوران موسمی پھلوں کا استعمال نیزکولا مشروبات کی جگہ فریش جوسز زیادہ سود مند ہیں۔

یاد رہے کہ پر خوری صحت کےلئے سخت نقصان دہ ہے اعصابی بیماریاں’دماغی کمزوری’ہائی بلڈ پریشر’شوگراور پیٹ کی متعدد امراض زیادہ کھانے سے ہی پیدا ہوتی ہیں رمضان المبارک ہمیں جو نظم وضبط اور اعتدال سکھاتا ہے۔

رمضان کے بعد بھی اسی تسلسل کو قائم رکھ کر ہم مستقل صحتمندرہ سکتے ہیں۔

مندرجہ بالا خبر روزنامہ جنگ لاہور مورخہ 22اکتوبر2006صفحہ3کالم4،

روزنامہ جناح لاہور23 اکتوبر2006صفحہ3کالم5،

روزنامہ اسلام لاہور23 اکتوبر2006صفحہ2کالم3،

(The Nation Lhr)

 23

اکتوبر2006صفحہ2کالم4سمیت دیگر پاک و ہند کے بیسیوں اخبارات و الیکٹرانک میڈیا میں ملاحظہ فرمائیں

October 9, 2006

٭امن کی پیامبر٭جڑی بوٹیاں ٭

صرف زیتون کی ڈالی ہی نہیں ہر جڑی بوٹی ،پتہ پتہ ، ڈالی ڈالی اور ہریالی مجھے امن کی پیامبر دکھائی دیتی ہے۔انسانیت کے لیے شفا اور فلاح کا باعث بننے والی ان جڑی بوٹیوں سے مجھے بچپن ہی سے بہت پیار ہے۔٭حکیم خالد٭

October 5, 2006

ر و زہ اور ذ یا بیطس



تحریر:قاضی ایم اے خالد۔ یونانی میڈیکل آفیسر



رمضان المبارک کے مہینے میں روزہ رکھنے والوں کے کھانے پینے کے معمولات یکسر مختلف ہو جاتے ہیں یعنی سحری(سورج طلوع ہونے سے قبل )اور دوسری مرتبہ افطار (یعنی سورج غروب ہونے پر )کھانا کھایا جاتا ہے ۔اکثر افطار میں دستر خوان زیادہ وسیع ہو جاتا ہے ۔جس میں تلی ہوئی اشیاء ‘کھجور اور دیگر میٹھی اشیاء و میٹھے مشروبات کے ساتھ ساتھ بہت زیادہ کاربو ہائیڈریٹس (نشاستہ)والے کھانے چاول’نان’چپاتی وغیرہ شامل ہوتے ہیں۔روزہ کے دوران ایک طویل وقفے کےلئے کچھ کھایا پیا نہیں ہوتا اور پھر یکدم بہت سا ایسا کھاناکھایا جاتا ہے جسے جسم فوری گلوکوز میں تبدیل کر دیتا ہے جو ذیابیطس(شوگر)کے مریضوں کےلئے بہترنہیں ہوتاکیونکہ ان کے خون میں کچھ وقت گلوکوز کی سطح کم ہوتی ہے اور پھر دوسرے وقت یہ سطح بہت زیادہ ہو سکتی ہے ۔اس صورتحال کو غذا ئی پرہیزاور ادویات کے شیڈول میں تبدیلی سے کنٹرول کر کے ماہ صیام کی برکتیںسمیٹی جا سکتی ہیں۔ روزہ رکھنے والے ڈایابیٹیز کے مریضوں کو درج ذیل احتیاطی تدابیر و تجاویز خون میں گلوکوز کی سطح کے اتار چڑھاؤ کو نارمل رکھنے میں مدد دے سکتی ہیں۔


شوگر کے مریض سحروافطار میں پھل ‘سبزیاں ‘دالیں اور دہی زیادہ استعمال کریں ۔نشاستے والے کھانے باسمتی چاول ‘چپاتی’بریڈ وغیرہ کھانے سے بھوک کم محسوس ہوگی ۔بہت زیادہ میٹھے کھانے و مشروب اور زیادہ تلی ہوئی اشیاء استعمال نہ کریں ۔بغیر سحری کھائے روزہ کبھی نہ رکھیں۔سحری کا کھانا بہت پہلے نہ کھائیں بلکہ سحری کا وقت ختم ہونے سے کچھ دیر قبل کھائیں اس طرح خون میں گلوکوز کی سطح کو متوازن رکھنے میں مدد ملے گی۔پیاس کی صورت میںسادہ پانی زیادہ بہتر ہے ۔میٹھے مشروب کو دل چاہے تو بغیر چینی کے اسکوائش مشروب’لیموںپانی یا مصنوعی مٹھاس ‘’سوئیٹکس ‘کینڈرل یا اسپارٹم’وغیرہ سے میٹھے کئے گئے مشروب استعمال کریں ۔کولا مشروبات’فاسٹ فوڈز’جنک فوڈز’تلے ہوئے کھانے ‘پراٹھے’پوریاں ‘سموسے’کچوریاں وغیرہ استعمال کرنے سے گریز کریں ۔البتہ گھریلو تیار شدہ کم چکنائی والے بیسن کے پکوڑے ‘دہی پکوڑیاںاوربغیر نمک و چینی کے فروٹ چاٹ استعمال کی جا سکتی ہے۔


روزہ رکھنے سے جسم میں پانی کی کمی واقع ہو جاتی ہے اور ایسا اس وقت ہو سکتا ہے جب خون میں گلو کوز کی سطح بہت زیادہ ہوگئی ہواس صورت میں جسم خون میں گلوکوز کی اضافی سطح کو پیشاب کے ذریعے خارج کرنے کی کوشش کرتا ہے ۔اس دوران اگر مریض روزہ سے ہو اور پیشاب زیادہ آنے کی وجہ سے اس میں پانی کی کمی واقع ہو جائے تو لازماً خون میں گلو کوز کی سطح اور بھی بلند ہو جائے گی جو طبیعت کی مزید خرابی کا باعث بن سکتی ہے ۔ایسے شوگر کے مریض جو ڈایا بیٹیز کو اپنی غذا اور دیگر جسمانی سرگرمیاں جاری رکھ کر کنٹرول کرتے ہیں یقینا اس قابل ہوتے ہیں کہ وہ رمضان کے روزے رکھ سکیں لیکن جن کی شوگر کنٹرول میں نہ ہورہی ہو ‘امراض گردہ’قلب یا ضعف اعصاب کا شکا ر ہوں ۔ان افراد کو لازمی طور پر روزہ رکھنے سے قبل اپنے معالج سے ضرور مشاورت کر لینی چاہیئے ۔


خون میں گلوکوز کی سطح کو قابو میں رکھنے کےلئے ‘’میٹافارمِن’‘گولی استعمال کرنے والوں کےلئے روزہ رکھنا محفوظ ثابت ہو سکتا ہے لیکن آپ کو اس دوا کے استعمال کے اوقات میں تبدیلی کی ضرورت ہوگی ۔اکثر یہ گولی روزہ افطار کرتے وقت شام کو لینے کی ہدایت کی جاتی ہے تاہم ہوسکتا ہے کہ مرض کے مطابق اس کی مقدار خوراک میں بھی کمی کی ضرورت ہو ۔جس کے بارے میں آپ کا معالج ہی بہتر رائے دے سکتا ہے۔اسی طرح ‘’گلیٹا زونز ‘’ استعمال کرنے والے مریض بھی روزہ رکھنے کے حوالے سے اپنے معالج سے ضرورمشورہ لیں۔


مجموعی طور پر آپ جو بھی دوا استعمال کررہے ہوں عام طور پر اس کی جتنی مقدارصبح لی جاتی ہے اس سے نصف افطار میں لیں اور شام میں جتنی مقدار لیتے ہیں اتنی ہی سحری میں استعمال کریں۔اسی فارمولے کے تحت انسولین کے یونٹ لئے جائیں۔ خون میں گلو کوز کی سطح متوازن رکھنے کےلئے اگر صرف صبح ہی دوا لی جاتی ہے تودوران رمضان اس کی نصف مقدارصرف افطار کے وقت لیں۔


اکثر شدید نوعیت کے مریضوں میں انسولین اور بعض گولیوں (سلفا نا ئلو ریاز وغیرہ)کے استعمال یا کھانے پینے میں کمی بیشی کی وجہ سے خون میں گلوکوز کی سطح فوری گر جاتی ہے اور بعض دفعہ ‘’ہائپو ‘’ کی کیفیت پیدا ہو جاتی ہے ۔اسی طرح بعض مریض ‘’ہائیپر’’ کی پچیدگی کا شکا ر ہوجاتے ہیں ڈایا بیٹیز کے ایسے مریضوں کو روزہ رکھنے سے احتراز کرنا چاہئیے۔اور علمائے کرام سے رابطہ کرکے روزے کا متبادل’ فدیہ وغیرہ اپنانا چاہئیے۔ ایسے افراد اگر روزہ ضرور رکھنا چاہیں تو قبل ازیں اپنے معالج سے انسولین کی قسم اور دیگر ادویات کی مقدار خوراک واوقات نیز اپنے جسم کی روزہ رکھنے کی صلاحیت کے بارے میں ضرور مشورہ کر لیں ۔


آخر میں ذیا بیطس کے جو مریض روزہ رکھ سکتے ہیں وہ ضرور رکھیں کیونکہ روزہ ‘’اسٹریس’’ کا خاتمہ کرکے روحانی و قلبی سکون بخشتا ہے۔ شوگر لیول ‘بلڈپریشر’اور کولیسٹرول کو نارمل رکھتاہے اور غیر ضروری وزن کوبھی کم کرتا ہے۔

روزہ شوگر لیول ‘کولیسٹرول اوربلڈ پریشر میں اعتدال لاتا ہے:حکیم خالد




روحانی تسکین کے ساتھ ساتھ روزہ رکھنے سے جسمانی صحت پر بھی مثبت اثرات مرتب ہوتے ہیں۔

روزہ شوگر لیول ‘کولیسٹرول اوربلڈ پریشر میں اعتدال لاتا ہے۔

‘اسٹریس و اعصابی تناؤختم کرکے بیشتر نفسیاتی امراض سے چھٹکارا دلاتاہے’

روزہ رکھنے سے جسم میں خون بننے کا عمل تیز ہوجاتا ہے ‘انسانی جسم سے فضلات اور تیزابی مادوں کا اخراج کرتا ہے

‘موٹاپا اورپیٹ کو کم کرنے میں مفید ہے’

خاص طور پر نظام انہظام کو بہتر کرتا ہے

علاوہ ازیں مزید کئی امراض کا علاج بھی ہے لیکن یہ تبھی ممکن ہوسکتا ہے جب ہم سحر وافطار میں سادہ غذا کا استعمال کریں۔
خصوصاً افطاری کے وقت زیادہ ثقیل اور مرغن تلی ہوئی اشیاء مثلاً سموسے پکوڑے کچوری وغیرہ کا استعمال بکثرت کیا جاتا ہے جس سے روزے کا روحانی مقصد تو فوت ہوتا ہی ہے خوراک کی اس بے اعتدالی سے جسمانی طور پر ہونے والے فوائدبھی مفقود ہوجاتے ہیں بلکہ معدہ مزید خراب ہوجاتا ہے

لہذا افطاری میں دنیا جہان کی نعمتیں اکٹھی کرنے اور اس پر ٹوٹ پڑنے کی بجائے افطار کسی پھل ‘کھجور یا شہد ملے دودھ سے کرلیا جائے اور پھر نماز کی ادائیگی کے بعد مزید کچھ کھالیا جائے اس طرح دن میں تین بار کھانے کا تسلسل بھی قائم رہے گا اور معدے پر بوجھ نہیں پڑے گا ۔
افطار میں پانی دودھ یا کوئی بھی مشروب ایک ہی مرتبہ زیادہ مقدار میں استعمال کرنے کی بجائے وقفے وقفے سے استعمال کریں ۔انشاء اللہ ان احتیاطی تدابیر پر عملدر آمد کرنے سے روزے کے جسمانی وروحانی فوائدحاصل کر سکیں گے۔

October 4, 2006

٭پرہیز علاج سے بہتر ہے٭

صحت مند افراد عموماً خوش و خرم رہتے ہيں۔ وہ اپنا روز مرہ کا کام بخوبي انجام ديتے ہيں۔ وہ لوگوں اور چيزوں ميں دلچسپي ليتے ہيں۔ وہ ديکھنے ميں اچھے لگتے ہيں۔ ان کے پاس توانائي کا ذخيرہ ہوتا ہے اور جلد نہيں تھکتے۔ ان کے ذہن ميں نئے خيالات آتے ہيں جن کي بدولت وہ زندگي ميں کامياب اور کامران رہتے ہيں۔ صحت کي طرف سے لاپرواہي جسم کے لئے بہت سے مسائل کھڑے کر ديتی ہيں۔ اس کي وجہ سے درد، تکليف، بے چيني، بے آرامي عارضي بھي ہوسکتي ہے، اور مستقل بھي، اکثر لوگ ان مسائل سے بہت زيادہ گھبرا جاتے ہيں، جب کہ بيشتر افراد ہمت سے کام ليتے ہيں اور تکليفوں کو زندہ دلي سے برداشت کرتے ہيں۔ يہ بات طے ہے کہ تندرست انسان ميں مشکلات سے مقابلہ کي قوت زيادہ ہوتي ہے۔

جہاں تک ممکن ہو بیماریوں سے بچنا چاہیئے۔ فی زمانہ امراض اور ان کی تباہ کاریوں سے بچاو میں حیرت انگیز ترقی ہوئی ہے۔ ہم بیشتر بیماریوں کے بارے میں یہ جاننے لگے ہیں کہ وہ کیسے پیدا ہوتی ہیں، کس طرح جسم کو نقصان پینچاتی ہیں اور ان سے کیسے بچا جاسکتا ہے۔ اگر کبھی کوئی بیماری ہو بھی جائے تو کن ذرائع سے ان کو تباہ کن صورت اختیارکرنے سے روکا جاسکتا ہے۔

بیماری کا علاج، بیماری سے بچاؤ کی کبھی برابری نہیں کرسکتا ہے۔ علاج اس وقت بہتر طور پر کیا جاسکتا ہے جب بیماری موجود ہو۔ اس کے باوجود علاج ہر وقت کامیاب بھی نہیں ہوتا۔ اس کے علاوہ اخراجات کے بارے میں دیکھا جائے تو بیماری کے بچاو پر اگر دس روپے یا سو روپے خرچ آتے ہیں تو علاج پر سوگنا، ہزار گنا یا اس سے بھی زیادہ اخراجات آسکتے ہیں اور علاج کامیاب نہ ہو تو جان بھی جاسکتی ہے۔ البتہ بیماریوں سے بچاو ہی ایک ایسا ذریعہ ہے جو انسان کو تندرست رکھ سکتا ہے اور اسے معذور یا کمزور ہونے سے بچاسکتا ہے۔ بیماریوں سے بچاو ہی کی بدولت آج دنیا میں بے شمار افراد لمبی عمر تک صحت مند زندگی گزارنے کے قابل ہوئے ہیں۔ آج سے پچاس ساٹھ سال قبل بچوں کی اکثریت بیشتر موذی امراض مثلاً خناق، خسرہ، پولیو، تپ دق، اور دستوں وغیرہ میں مبتلا ہو کر ہلاک ہوجاتی تھی لیکن آج بہت سی خطرناک بیمارہیوں سے بچاؤ ممکن ہوگیا ہے۔ ان خطرناک بیماریوں کی اب ابتدا میں ہی تشخیص ہوجاتی ہے۔جسکی وجہ سے مناسب اور بروقت علاج ہو کر مریض صحتمند ہو جاتے ہیں۔

اردو محفل کا "طب اور صحت فورم" ان دشمنوں، بیماریوں اور مصیبتوں سے بچنے اور ان سے محفوظ رہنے کے لیے معلومات کی آگاہی اور شعور بیدار کرنے میں ایک ادنٰی سی کوشش ہے۔

صحت و صفائی کے بارے میں آگاہی کو بنیادی اہمیت دینا ضروری ہے۔ جو سرمایہ کسی پسماندہ علاقے میں بہت بڑے اسپتال قائم کرنے پر صرف کیا جائے، اس کے بجائے اسی سرمائے کو اس علاقے میں جراثیم، کیمیائی مادوں اور ضرر رساں معدنیات سے پاک صاف پانی کی فراہمی یقینی بنانے کے لیے استعمال کیا جائے تو وہاں شاید اس بڑے اسپتال کی ضرورت ہی نہ پڑے۔ اسی طرح بڑے بڑے اسپتالوں کی تعمیر سے زیادہ ضرورت اس بات کی ہے کہ عوام کو آلودگی سے پاک، ہوا، پانی اور غذا فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ ان میں صحت و صفائی کا گہرا شعور بیدار کیا جائے۔

اگر ہم صحت اور صفائی کا خیال رکھیں، حکومتی ادارے صاف ہوا، غذا اور پانی فراہم کرنے پر توجہ دیں، بیمار پڑنے سے پہلے ہی بیماری سے بچنے کی کوشش کی جائے تو بیماری سے صحت یابی کے لٰے خرچ ہونے والے لاکھوں، کروڑوں، اربوں روپے کی خطیر رقم کو ہم اپنے بچوں کی اچھی تعلیم، زیادہ بہتر معیار زندگی، زیادہ اچھی رہائش، زیادہ اچھے لباس اور اپنی زندگی کو بہتر بنانے میں صرف کرسکتے ہیں۔

اب یہ بات ہمیں اور آپ کو طے کرنا ہے کہ ہم حکیموں،ڈاکٹروں، ہیلتھ کلینکوں، اسپتالوں،دواساز اداروں اور میڈیکل اسٹوروں کی رونق بڑھانا چاہتے ہیں یا اس کے بر عکس طرزِ زندگی اختیار کرکے، صحت و صفائی اور احتیاط کو اپنا کر اپنے گھروں کی رونق میں اضافہ کرنا چاہتے ہیں۔٭٭

اردو محفل کے "طب اور صحت فورم" کووزٹ کرنے کےلیے درج ذیل ربط پر کلک کریں۔

http://www.urduweb.org/mehfil/index.php?f=113

٭ توند۔امراض قلب اور ذیابیطس کا بڑا سبب ہے ٭

امریکی طبی ماہرین نے کہا ہے کہ درمیانےدرجے کے وزن کے حامل افراد زیادہ موٹے افراد کی نسبت لمبی عمر پاتے ہیں۔امریکن سینٹر فارڈیزیز کنٹرول کی تحقیقی رپورٹ کے مطابق زیادہ موٹاپے سے ہٹ کر درمیانے درجے کا زائد وزن انسانوں کی لمبی عمر کا باعث بنتاہے۔اس سلسلے میں امریکہ کے طبی ماہرین کی ٹیم نے تین دہائیوں 80’70اور 1990ء میں انتقال کرجانےوالے ہزاروں افراد کے وزن’ ان کی خوراک اور موٹاپے کے بارے میں تفصیلی مطالعاتی جائزہ لے کر سروے کیا تو پتہ چلا کہ زیادہ موٹاپے کے شکار افراد درمیانے وزن کے حامل افراد کی
نسبت جلدی انتقال کر گئے جبکہ جسمانی وزن معمول سے زائد رکھنے والوں نے مٹاپے کےشکار افراد کی نسبت زیادہ لمبی عمر پائی۔طبی ماہرین نے تجویز کیاہے کہ موٹاپے کے شکار افراد کو زائد وزن سے بالکل پریشان نہیں ہونا چاہئے بلکہ اپنی توندکواعتدال میں لانا چاہئے تاکہ وہ دل کے امراض اور ذیابیطس کا شکار نہ ہوں کیونکہ تونداور کمرکے گردچربی کی تہہ ذیابیطس کا سبب بنتی ہے۔ ماہرین نے حال ہی میں تحقیق کے بعد اندازہ لگایاہے کہ امریکہ میں موٹاپے کے شکار افراد کی متوقع اوسط عمر میں مزید چار ماہ کی کمی ہوسکتی ہے۔ ماہرین نے اعداد وشمار کے حوالے سے بتیا کہ 30سالوں کے دوران موٹاپے میں مبتلا افراد کی کییگری میں ایک لاکھ 12ہزار سے زائد ہلاکتیں ہوئیں جبکہ اسی کییگری میں درمیانے درجے کا وزن رکھنے والوں کی 34ہزار سے زائد ہلاکتیں ہوئیں جس سے ماہرین نے نتیجہ اخذ کیاکہ درمیانے درجے کا وزن طویل العمری کا باعث بنتاہے۔

٭ غصہ ذہنی دباؤ اور خراب موڈ دل کی بیماریوں کا باعث

٭غصہ آپ کا دشمن ہے اسے اپنے قریب پھٹکنے نہ دیں٭
( حکیم خالد ہیلتھ ڈیسک،ٹی این این،wpi)
ڈیوک یونیورسٹی لندن کے میڈیکل سنٹر برائے نفسیاتی امراض اور Behavi-oralسائنس کے ایسوسی ایٹ پروفیسر ایڈورڈشیوریز نے ایک تحقیق کے بعد کہا ہے کہ غصہ ذہنی دباؤ اور خراب موڈہمارے دل کے دشمن ہیں’ وہ پہلی بار اس مخصوص پروٹین’‘سی آرپی’’ کا پتہ چلانے میں کامیاب ہوئے جو غصے اور ذہنی دباؤ کے باعث جسم میں پیدا ہوتاہے اور دل پر منفی اثرات مرتب کرتاہے’ 127افراد پر کی گئی اس تحقیق سے قبل تمام افراد کے خون کا معائنہ کیا گیا جس سے معلوم ہوا کہ ان میں سے کسی کو بھی دل کا عارضہ لاحق نہیں تھااور نہ ہی کوئی دل کو متاثر کرنے والی دوسری بیماری مثلاََ ہائی بلڈپریشر’ذیابیطس اور موٹاپے وغیرہ میں مبتلا تھے۔ان تمام افراد کا عمومی رویہ دیکھا گیا جس کے بعد دوبارہ ٹیسٹ کرنے پر معلوم ہوا کہ غصہ اور ذہنی دباؤ میں مبتلا رہنے والے افراد میں سی آر پی کی مقدار زیادہ تھی جو دل کی شریانوں کے سکڑاؤ اور دل کی بیشتر بیماریوں کا باعث بنتاہے۔واضح رہے کہ ذہنی دباؤ اور خصوصاََ غصے کی وجہ سے گردوں کی کارکردگی پر بھی منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔

٭امراض قلب کا نباتاتی علاج٭

ٹی این این…ماہرین نباتات کی طبی تحقیق کے مطابق ایسے مریض جنہیں امراض قلب’خون کے جمنے اور دل کے دوسرے حصوں کو نقصان پہنچنے کا احتمال ہو تو وہ روزانہ صبح نہار منہ پان کا پتا’ برگ پودینہ سبز اور ادرک ایک تازہ گلاس پانی میں جوش دیکر پئیں تو فائدہ پائیں گے۔ عضلاتی پٹھوں کی صحت کے لئے شام کو بادرنجویہ’برگ گاؤ زبان جوش دیکر چھان لیں اور خمیرہ ابریشم حکیم ارشد والا 2گرام ملا کر استعمال کریں۔ چارہفتوں کے مسلسل علاج کے بعد مریض سیر کو اپنا معمول بنالے تو محسوس کریگا کہ نباتاتی علاج نے اسے قلبی بیماریوں سے محفوظ کر دیا ہے۔امراض قلب کے مریضوں کو چاہیے کہ وہ خون گاڑھا کرنیوالی غذائیں مثلاََ گائے کا گوشت’ چربی’گھی’ اروی’ بھنڈی’ بینگن’ گوبھی’ مسور’ماش کی دال اور انڈوں سے پرہیز کریں البتہ مرغی’پرندوں کا گوشت’ مچھلی’سبزیاں اور گاجریں بکثرت کھائیں۔

حکیم خالد کی طبی ،صحافتی اور سماجی خدمات پر گولڈ میڈل ایوارڈ

وفاقی پارلیمانی سیکرٹری ،ممبر قومی اسمبلی پاکستان فاروق امجد میر ،حکیم خالد کو ان کی طبی ،صحافتی اور سماجی خدمات پر گولڈ میڈل ایوارڈ دے رہے ہیں