اسلامی جمہوریہ پاکستان زندہ باد


June 14, 2008

اور۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ سارا پاکستان ملک بچانے نکل آیا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 
چھوڑیں اپنی غیر اہم سیاست کو! آج جس طرح وکلاء اور سول سوسائٹی کے ارکان ہیروز ہیں ویسے ہی اعتزاز احسن، منیر اے ملک، نواز شریف، عمران خان اور قاضی حسین احمد آج کے ہیرو ہیں جنہوں نے بے مثال پروگرام کا اہتمام کیا۔ ہر طرف ایسا زبردست جوش و جذبہ دکھائی دے رہا تھا جسے الفاظ میں بیان نہیں کیا جاسکتا۔ تاریخ بن چکی ہے اور لوگوں نے ایک بار پھر اپنے 18 فروری کے فیصلے کی توثیق کردی ہے کہ مشرف کو جانا چاہئے اور معزول ججز کو بلاتاخیر بحال کیا جائے۔ عملاً ہر طرف لوگ ہی لوگ تھے۔ مرد، خواتین، بچے، بوڑھے، سابق فوجی، صحافی اور زندگی کے ہر شعبے سے تعلق رکھنے والے افراد اس جگہ جمع تھے جو اسلام آباد میں پریڈ ایونیو ہوا کرتا تھا۔ ہر چہرہ جوش و جذبے سے بھرپور تھا اور ایک نئے پاکستان کیلئے اپنے عزم کا اظہار کر رہا تھا۔ اسلام آباد میں ایسا عوامی سمندر کبھی نہیں دیکھا گیا جیسا ہم نے جمعہ کو دیکھا۔ اور جب پارلیمنٹ کے سامنے ڈی چوک پر لوگوں کا سیلاب آیا ہوا تھا تو اس وقت ایسی کوئی قریبی گلی نہیں تھی جو نعرے لگاتے ہوئے پرجوش لوگوں سے خالی ہو۔ اعتزاز احسن اور مسلم لیگ (ن) کی زیر قیادت وکلاء برادری کی دو ریلیوں کو ابھی وہاں پہنچنا تھا۔ لوگوں کا کہنا تھا کہ وہ انتخابات کے نتائج میں سامنے آنے والی قومی اسمبلی کی جانب سے دکھائی جانے والی لاتعلقی پر لاتعلق نہیں رہ سکتے۔ 18 فروری کو عوام کی جانب سے پرویز مشرف اور ان کی پالیسیوں کیخلاف واضح عدم اعتماد کا فیصلہ آیا تھا۔ الیکشن کے مینڈیٹ سے عوام کی اس خواہش کا بھی واضح اظہار ہوتا تھا کہ وہ معزول ججوں کی بحالی چاہتے ہیں۔ افسوس ناک بات یہ ہے کہ پارلیمنٹ فوراً ہی یہ بھول گئی کہ اسے اپنے قیام کے ابتدائی چند دنوں اور ہفتوں میں کیا کام کرنا ہے۔ پاکستان پیپلز پارٹی، جو سب سے بڑی سیاسی جماعت بن کر ابھری تھی، انتخابات کے فوراً بعد حقیقت پسند بن گئی اور ایک کے بعد ایک وعدے توڑنے لگی۔ الیکشن میں دیئے گئے مینڈیٹ کے برخلاف پیپلز پارٹی کی اعلیٰ قیادت نے صدر کے مواخذے کی بجائے انکے ساتھ محبت کے عہد و پیمان شروع کردیئے۔ آزاد عدلیہ کے مسئلے پر پیپلز پارٹی نے ان فاضل ججوں کی بحالی کو پیچیدہ بنانا شروع کردیا ہے جنہوں نے ایک فوجی آمر سے وفاداری کا اظہار کرنے سے انکار کردیا تھا اور بالآخر پارٹی آئینی پیکیج لیکر آگئی جس نے ان عوام کی پیٹھ میں خنجر گھونپنے کا کام کیا جنہوں نے فروری کے انتخابات میں پی پی پر اعتماد کیا تھا۔ آئینی پیکیج میں آرٹیکل نمبر 6 کی واضح خلاف ورزی پر صدر کو سزا دینے کی بجائے 3 نومبر کے غیر آئینی اقدامات کی توثیق کی سفارش کی گئی ہے۔ ججوں کے مسئلے پر آئینی پیکیج میں، ججوں کو آئینی ترمیم کے ذریعے بحال کرنے، پی سی او کے تحت حلف لینے والے تمام ججوں کی ملازمت جاری رکھنے یا وہ جنہیں پرویز مشرف نے تین نومبر کے بعد مقرر کیا، کے علاوہ ایک شخص سے مخصوص ترمیم جس کا نشانہ معزول چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری ہیں اور موجودہ چیف جسٹس عبدالحمید ڈوگر کو فائدہ پہنچانے کی کوشش کی گئی ہے۔ وکلاء کا یہ شو، جسے نواز لیگ کی مکمل حمایت حاصل ہے، ان دونوں مسائل پر زرداری ہاؤس کی حکمت عملی کو مسترد کرچکا ہے۔ عوام تبدیلی چاہتے ہیں، ایک ایسی تبدیلی جو 18 فروری سے پہلے والی صورتحال سے مختلف ہو اور مشرف دور کی جوں کی توں صورتحال کا خاتمہ ہو، وہ پارلیمنٹ، جسے عوامی خواہشات کا عکاس ہونا چاہئے؛ وہ چند مصالحت کئے ہوئے غیر منتخب نام نہاد سیاست دانوں کے اشاروں پر چل رہی ہے، اسکی لاتعلقی پر عوام خاموش رہنے کو تیار نہیں ہیں۔ مفاد پرست عناصر نے وکلاء پر تنقید کی ہے۔ اس بات کی کوششیں ہوتی رہی ہیں کہ ان کی صفوں میں دراڑیں ڈالی جائیں تاکہ وکلاء تحریک کا خاتمہ ہوسکے لیکن وہ پرعزم رہے اور انہوں نے قانون کی حکمرانی اور عدلیہ کی بحالی کیلئے اپنی جدوجہد پر توجہ مرکوز رکھی۔ جمعہ پاکستان کی تاریخ کیلئے ایک قابل ذکر دن تھا اور یہ سب کچھ وکلاء کی وجہ سے ممکن ہوا۔ ہمیں واقعی ان پر فخر ہے۔ نواز لیگ کے سربراہ میاں نواز شریف بھی ججوں کی بحالی اور صدر کے مواخذے کے موقف پر قائم رہے ہیں۔ انکا انداز، انکے الفاظ اور انکی تقاریر اور ان کا ہر اظہار بہت متاثر کن اور غیر مبہم ہے، وہ انقلابی محسوس ہوتے ہیں۔ وہ اپنے ماضی سے مختلف دکھائی دیتے ہیں، عمران خان اور قاضی حسین احمد پاکستان کے آج کے دو اہم ترین مسائل پر اپنے موقف کیلئے پورے نمبروں کے مستحق ہیں۔آج ہر انسان کی صرف یہ خواہش اور تمنا ہے کہ وکلاء کا مارچ پاکستان کیلئے نئے آغاز کے پیش لفظ کا کام کرے۔ یہ بہت ہی موزوں وقت ہے کہ دو نومبر کی عدلیہ کے تمام حامی اور پاکستان میں فوجی آمریت کے خاتمے کے خواہش مند ایک ساتھ مل جائیں اور اس ملک کے عوام کے بہتر مستقبل کیلئے اپنی توانائیاں مجتمع کردیں۔
 
 (تجزیہ: … انصار عباسی)

June 12, 2008

امریکی حملے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

پاکستان کے قبائلی علاقے میں ’امریکی حملے‘ میں ایک میجر سمیت تیرہ پاکستانی فوجی شہید ہوگئےاور چوبیس گھنٹوں کے اندر۔۔۔۔ پھر
خبر آئی ہے کہ امریکی طیاروں نے دوسرا حملہ کر دیا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
 
امریکہ نے پہلے تو ہماری فوج اور قوم میں دوریاں پیدا کیں، انہیں اندرونی وبیرونی دوستوں سے دور کر کے تنہا کیا۔ پاک فوج کے ذریعے نہتے عوام کو مارا اور اب بالآخر فوج کو بھی براہ راست جنگ میں گھسیٹ لیا۔ یہی ہونا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کاش۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 
روشن خیالی کے ٹھیکےداروں کو اس انجام کا ادراک ہوتا۔
پرویز مشرف کی غلطیوں کا خمیازہ نہ صرف عوام بھگت رہے ہیں بلکہ اب اس کے "ثمرات"سے پاک فوج بھی مستفید ہورہی ہے۔ اب بھی وقت ہے کہ تمام عمائدین مملکت خداداد پاکستان متحد ہو جائیں۔اور قوم کو بھی اعتماد میں لیکر جامع حکمت عملی وضع کر لی جائے ورنہ عراق اور افغانستان جیسے حشر کےلئے تیار رہا جائے۔

صرف بیان بازی سے کام نہیں چلےگا۔ جہاں تک بات ہماری خود مختاری پر حملے کی ہے تو ہماری خود مختاری بجائے خود ایک سوالیہ نشان ہے۔ جب سے یہ احمد مختار جیسے لوگوں کے ہاتھ میں آئی ہے۔توبات بیان بازی،اور احتجاج تک محدود ہو گئی ہے۔۔۔۔۔پاکستانی احتجاج کے حوالے سے ایک لطیفہ یاد آیا نذر قارئین ہے۔۔۔۔۔۔۔۔

ایک خان صاحب کے ہاں ایک نوکر کم تنخواہ پر کام کر رہا تھا۔ ایک دن تنگ آکر اس نے اپنے مالک سے دھمکی کے انداز میں کہا: میری تنخواہ میں اضافہ کردو  ورنہ۔۔۔ ورنہ۔۔۔ میں۔۔۔۔
مالک نے کہا: ورنہ تم کیا کرو گے؟
اس نے کہا: ورنہ پھر اسی پر ہی گزارہ کروں گا۔‘
پاکستان کے احتجاج کی بھی یہی حیثیت ہے امریکہ آقا کے سامنے۔

 مکمل خود مختاری کے لیے ہمیں مزید قربانیوں کی ضرورت ہے جس کے لیے ہمیں ابھی سے تیاری کرنی ہوگی چائنہ سے دوستی مزید بڑھانی ہوگی۔ نام نہاد امریکی دوستی کا خاتمہ اب نا گذیر ہے۔

 ان بارشوں سے دوستی اچھی نہیں فراز
کچا تیرا مکان ہے کچھ تو خیال کر

امریکہ سوائے اسرائیل کے کسی کا دوست نہیں۔ اب ہوش کے ناخن لینے چاہئیں اور اندرونی اختلافات کو خیرباد کہہ کر بیرونی جارحیت کا متحد ہوکر مقابلہ کرنا پڑے گا۔پاکستانی قوم گیدڑ کی زندگی کی بجائے شیر کی زندگی کو ترجیح دے گی۔افواج پاکستان ناقابل شکست تھیں اور ہیں۔ قوم آج بھی اس شجاع فوج کے ساتھ ہے۔اگر یہ کرائے کےقاتل اور امریکی دہشت گردی کی جنگ کا ساتھ دینے کی بجائےاصل دفاع کے حقداروں کےلئےانیس سو پینسٹھ  والا کردار ادا کرنے کےلئے تیار ہو جائے۔

June 10, 2008

پرویز مشرف (روشن خیالی) ام الخبائث ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 
پرویز مشرف (روشن خیالی) ام الخبائث
 

 
 پرویزمشرف کا دور حکمرانی نہ صرف سیاسی لحاظ سے تباہی لے کر آیا بلکہ سماجی سطح پر بھی ہزاروں معاملات میں بگاڑ پیدا کر چکا ہے۔
  ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

پرویزمشرف کا دور حکمرانی نہ صرف سیاسی لحاظ سے تباہی لے کر آیا بلکہ سماجی سطح پر بھی ہزاروں معاملات میں بگاڑ پیدا کر چکا ہے۔ مغرب کے افکار کو پاکستانی معاشرے میںشامل کرنے کیلئے ‘’روشن خیالی’’ کا نعرہ ایجاد کیا گیا۔ اسی ‘’روشن خیالی’’ کی آڑ لے کر پہلے پہل توتہواروں کے موقع پر شراب کو عام کیا گیا اور اب یہ حال ہے کہ ‘’اعلیٰ’’ تقریبات شراب کے بغیر ادھوری تصور ہوتی ہیں۔

بیشتر اراکین اسمبلی اوربیوروکریٹس تو اس کے عادی تھے ہی اب ایلیٹ کلاس سے لیکرعام غریب آدمی کی رسائی بھی ‘’ام الخبائث’’ تک ہو چکی ہے۔ محتاط اندازے کے مطابق چند سالوں کے اندر پاکستان میں شراب نوشی کرنے والوں کی تعداد چالیس لاکھ سے بڑھ چکی ہے جس کی وجہ سے جرائم کی شرح اور ٹریفک حادثات میں حیران کن اضافہ ہو گیا ہے۔

ڈانلڈ۔آر۔کریسی اپنے مضمون Criminological Research and the Definition of Cirmeمیں لکھتے ہیں کہ 80فیصد جرائم کی وجہ شراب خانہ خراب ہے۔ معصوم لوگوں کے قتل ‘آبروریزی کے واقعات ‘ڈاکہ زنی’ دھوکہ دہی ‘غبن اور دیگر جرائم میں شراب ایک محرک کا کردار ادا کرتی ہے۔ شراب کے حوالے سے ہی ایک بہت پرانا واقعہ میں نے کہیں پڑھا تھا کہ میسور کرناٹک(بھارت )1881 ء میں ایک انگریز چیئرمین بنائے گئے تو ایک غیرمسلم نے اس انگریز چیئر مین سے یہ درخواست کی کہ مسلمان اپنی پسند کا گوشت کھاتے اور فروخت کرتے ہیں تو ہمارے کھائے جانے والے گوشت پر پابندی کیوں؟

لہذٰا مجھے بھی بازار میں خنزیر کا گوشت بیچنے کیلئے لائسنس دیا جائے چنانچہ چیئرمین نے اس غیر مسلم کو لائسنس دے دیا دوسرے دن ہی خنزیر کے گوشت کی دکان کھل گئی اور بورڈ بھی آویزاں کر دیا گیا جب مسلمانوں کو لحم خنزیر کی دکان سے متعلق علم ہوا تو شہر کے سارے مسلمانو ں نے انگریز چیئرمین کا گھیرائو کر لیا اور کہا کہ آپ میسو ر کرناٹک کے پہلے چیئرمین ہیں جنہوں نے خنزیر کا گوشت بیچنے کیلئے لائسنس دیا ہے آپ کو یہ لائسنس منسوخ کر کے دکان بند کرانا پڑے گی۔

چیئرمین نے شہر کے سارے مسلمانوں سے مخاطب ہوکر کہا کہ تمہیں اس دکان کے کھلنے پر اس وجہ سے غصہ آ رہا ہے کہ تمہارے مذ ہب میں لحم خنزیر حرام ہے دوسری اور کوئی وجہ نہیں لیکن میں تم مسلمانوں سے یہ پوچھتا ہوں کہ تمہارے مذہب میں شراب بھی حرام ہے اس سے پہلے میں نے بیشتر لائسنس شراب کی دکانوں کیلئے دئیے اور شہر میں بے شمار دکانیں شراب کی کھلی ہوئی ہیں لیکن تم میں سے کوئی مسلمان میرے پاس نہیں آیا کہ انہیں بند کیا جائے محض اس لئے کہ بہت سارے مسلمان خود شراب کے عادی ہیں۔

قارئین محترم ! … تھا تو وہ انگریز اور غیر مسلم بھی لیکن بات بہت سچی اور پکی کہہ گیا۔ ہمارے عظیم مذہب اسلام میں لحم خنزیراور شراب دونوں حرام ہیں ان کی حرمت میں رتی برابر فرق نہیں دونوں کا حکم قرآن پاک میں موجود ہے۔ قرآن مجید میں سورہ مائدہ کی آیت نمبر نوے (90) کے چار کلمات شراب کی حرمت کو واضح کرتے ہیں۔
رجس …شراب ایک ناپاک چیز ہے۔
من عمل الشیطان… شراب نوشی شیطانی عمل ہے۔
فاجتنبوہ …شراب نوشی سے بچو۔
لعلکم تفلحون… شراب نوشی ترک کرو گے تو فلاح پاجاؤ گے۔
اگلی آیت مبارکہ میں اس شیطانی عمل کے مزید نقصانات کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ شیطان’ شراب نوشی کے ذریعے تمہارے درمیان عداوت اور بغض پیدا کرنا چاہتا ہے۔ اور شیطان کا ارادہ ہے کہ وہ تمہیں اللہ تعالی کے ذکر اور نماز سے روک دے۔

حدیث قدسی ۖہے کہ ‘’شراب پینے والے، پلانے والے، فروخت کرنے والے اور خریدنے والے اور جس کے لئے نچوڑی جائے، اٹھاکر لے جانے والے اور جس کے لئے اٹھاکر لے جائی جائے ان تمام لوگوں پر خدائے تعالیٰ کی لعنت ہے ‘’۔

سنن ابن ماجہ’ابواب الشرب ’ ص 250 میں سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ بیان فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاکہ شراب کو دس وجوہات کی بناپر ملعون قرار دیاگیا ہے۔
1…شراب پر لعنت ہے۔
2…اس کو نچوڑنے والا ملعون ہے۔
3…جس کیلئے نچوڑی جائے وہ لعنتی ہے۔
4…اس کا بیچنے والا لعنتی ہے
5…اس کے خریدنے والے پر لعنت ہے۔
6…اس کا اٹھانے والا ملعون ہے۔
7…جس کیلئے اٹھائی جائے اس پر بھی لعنت ہے۔
8…اس کی قیمت کھانے والے پر لعنت ہے۔
9…شراب کے پینے والا لعنتی ہے۔
10…اور اس کا پلانے والا بھی لعنت کا مستحق ہے۔
جدید میڈیکل سائنس کے مطابق شراب منہ، معدہ، جگر، انتڑیوں اور چھاتی کے کینسر، دل کے امراض اور بیسیوں دیگر خطرناک بیماریوں کا باعث ہے۔

ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ اسلامی جمہوریہ پاکستان کی حکومت شراب کی حرمت کو سمجھتے ہوئے اس پر مکمل پابندی عائد کرتی لیکن اس کی بجائے حدیث پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے مطابق لعنتوں کے طوق گلے میں ڈالتے ہوئے پورے ملک میں غیر مسلموں کے نام پرشراب فروشی کے پرمٹ جاری کرتی ہے جس سے یہ خبائث عام آدمی کی دسترس میں بھی موجود ہے پاکستان کا کوئی نہ کوئی قریہ ایسا نہیں جہاں شراب دستیاب نہ ہو۔

شراب کو قرآن حکیم میں ‘’ام الخبائث’’ کہا گیا ہے اور اس کے استعمال سے اہل اسلام کو سختی سے منع کیا گیا ہے اور صرف یہی نہیں بلکہ اسلام کے علاوہ دیگر مذاہب میں بھی شراب کو کسی طور جائز قرار نہیں دیا گیا تمام مذاہب اور ادیان میں شراب کی ممانعت ہے اسی لئے اکثر پاکستان میں عیسائی اور دیگر مذہبی راہنمائوں کے واضح بیان آتے رہتے ہیں کہ ہمارے مذہب میں بھی شراب قطعی حرام ہے لہذٰا صرف اس بنا ء پرکسی کو پرمٹ نہ دیا جائے کہ وہ عیسائی یا غیر مسلم ہے یہ اقدام ہمارے مذاہب کی توہین کے مترادف ہے۔

اس کے باوجود حکومت کی طرف سے شراب فروشی کے پرمٹوں کا اجراء وطن عزیز میں شراب نوشی کی حوصلہ افزائی اور اس کے استعمال کے چور راستے کھولنے کے برابر ہے اور صرف یہی نہیں بلکہ حکومت شراب کے عام استعمال سے اس قوم کے ضمیرکو مردہ اور احساس کو ہمیشہ کیلئے سلانے میں دشمنوں کی معاونت کررہی ہے ۔بھارت اور دیگر مغربی ممالک جو کہ مسلمانوں کے ہاتھوں ذلت اٹھا چکے ہیں ایک خدا ‘ایک قرآن اور کلمہ طیبہ پر متحد ہو جانے والوں سے انتہائی خوفزدہ ہیں۔

موجودہ دور میں جنگوں کے طریقہ کار بدل چکے ہیںمسلمان قوم کو بے حس اور بے غیر ت بنانے کیلئے الیکٹرانک میڈیا ‘پرنٹ میڈیاکے استعمال کے علاوہ شراب اور دیگر منشیات کے عام استعمال کا دائو چلایا جارہا ہے ۔ امریکی ایجنڈے کے تحت بے حیائی کے تحفظ کے قوانین بن چکے ہیں ۔ محترم محمد بشیر احمد کی باغ جناح لاہور میں فحاشی کے حوالے سے تحقیقی رپورٹ اخبارات میں شائع ہو چکی ہے۔ اور کم و بیش ملک بھر میں فحاشی کی یہی صورتحال غیر محسوس طریقے سے پیدا کی جارہی ہے۔

پاکستان کا قیام صرف اور صرف اسلامی اقدار کو فروغ دینے کیلئے عمل میں لایا گیا تھا’ قرارداد مقاصد اس کا بین ثبوت ہے یہ علیحدہ بات ہے کہ نہ تو اس پر کسی حکمران نے عملدرآمد کیا اور نہ ہی بیورو کریسی نے اس کا نفاذ ممکن ہونے دیا ان حالات میں شراب پر مکمل پابندی اور شریعت ایکٹ نافذ کرنے کے حوالے سے صوبہ سرحدکی سابق حکومت نے کچھ کوشش کی جبکہ شریعت کے نفاذ کے حوالے سے موجودہ اے این پی کی مخلوط حکومت نے بھی مقامی طور پرکچھ معاہدے کئے ہیں جو لائق تحسین ہیںاور جس کی تقلید دیگر صوبوں سمیت مرکز کو بھی کرنی چاہئے حکومت پاکستان اور دیگر صوبائی حکومتیں وطن عزیزمیں ام الخبائث بننے بنانے’لانے لیجانے’ خریدوفروخت کرنے اور پینے پلانے پر مکمل پابندی عائدکریں۔ ملک بھر میںشریعت کے نفاذ کو جلد ازجلد یقینی بنایا جائے اسلامی نظریاتی کونسل کی سفارشات پر فوری عملدرآمدکیا جائے ۔

پرویز مشرف ‘چند سیکولر ذہن رکھنے والے مشیران’ وزراء مملکت ’ امراء اور دیگر بیوروکریٹ آفیسران نیز غیرملکی آقائوں کے آلہ کاروں کی خوشنودی حاصل کرنے کیلئے آئینِ پاکستان ‘قرار داد مقاصد’مقاصد قیامِ پاکستان اور سب سے بڑھ کراحکامِ خداوندی کو پس ِپشت نہ ڈالیں۔امریکی حکام پرویز مشرف کو مندرجہ بالا مطالبات کی تکمیل کسی صورت نہیں کرنے دیں گے ۔ لہذا انہیں پاکستان کے سماجی ڈھانچے کو بچانے کیلئے فوری مستعفی ہو جانا چاہئے (کیونکہ سیاسی ڈھانچے کی تعمیر ہوسکتی ہے سماجی ڈھانچے کی نہیں) ورنہ اگر ملک بھر میں غیرت مسلم جاگ اٹھی تو وسیع پیمانے پر احتجاج اور ایسی بد امنی پھیلے گی کہ جس پر حکومت اور اس کے سر پرست بھی قابو نہ پا سکیں گے۔

تحریر: قاضی ایم اے خالد

 
یہ کالم مندرجہ ذیل اخبارات اور ویب سائٹس پر بھی پڑھا جا سکتا ہے
 
 

May 31, 2008

سگریٹ کا ایک کش پھیپھڑوں کو 4000مضر صحت مادوں سے بھر دیتا ہے۔حکیم خالد

WORLD NO TOBACCO DAY 2008
 
لاہور31مئی …ورلڈ نو ٹوبیکو ڈے تمباکو اور ان کارپوریشنز کے خلاف ایک سالانہ احتجاج ہے جو اس کے استعمال کو فروغ دیتی ہیں۔ اس سال کا موضوع ‘تمباکو سے آزاد نوجوان’ ہے جس کا مقصد تمباکو کی تمام اقسام کی مارکیٹنگ اور ایڈورٹائزنگ بشمول تقریبات اور سرگرمیوں کی اسپانسرشپ پر پابندی لگا کر نوجوان نسل کو تمباکو نوشی سے محفوظ رکھنا ہے۔ سگریٹ کا ایک کش پھیپھڑوں کو کاربن ڈائی آکسائیڈ’کاربن مونو آکسائیڈ’اونیا’ایسے ٹون اور تقریبا 4000دوسرے مضر صحت مادوں سے بھر دیتا ہے۔ سگریٹ کی مدد سے خود کشی کرنے والا صرف اپنی سانسوں کو ہی کم نہیں کرتا’بلکہ اس آلودہ فضا میں سانس لینے والے ہر شخص کی صحت کو ناقابل تلافی نقصان پہنچاتا ہے۔اس امر کا اظہار چیف ایگزیکٹو ‘’ہیلتھ پی کے ‘’ حکیم قاضی ایم اے خالد نے عالمی یوم انسداد تمباکو نو شی کے موقع پر ایک مجلس مذاکرہ میں کیا ۔انہوں نے کہا کہ تمباکو نوشوں کے چھوڑے ہوئے دھوئیں میں محض آدھا گھنٹہ سانس لینے سے تمباکو نہ پینے والوں کے قلب کو خون کی فراہمی میں کمی آ جاتی ہے ، اس دھوئیں کی مضرت کا اندازہ اس سے لگایا جا سکتا ہے کہ تجرباتی طور پر جن افراد نے روزانہ بیس سگریٹ پھونکے انہیں ان کے دھوئیں نے یہ تکلیف نہیں پہنچائی اور اس ماحول میں موجود ایسے افراد جو تمباکو نوشی نہیں کرتے تھے مختلف بیماریوں کا شکار ہو گئے۔پاکستان سمیت ترقی پذیر ملکوں میں سگریٹ نوشی کی شرح بہت تیزی سے بڑھ رہی ہے اورکم عمر نوجوان اس کا زیادہ شکار ہو رہے ہیں ۔عالمی ادارہ صحت کے مطابق موجودہ صدی میں ایک ارب افراد تمباکو نوشی سے متعلق امراض کے باعث ہلاک ہوجائیں گے سگریٹ نوشی کے تدارک کیلئے سگریٹ پر بھاری ٹیکس عائد کئے جائیں۔ سگریٹ نوشی کے اشتہارات شائع اور نشر نہ کئے جائیں۔حکومت سگریٹ نوشی پر پابندی نیز سگریٹ نوشی نہ کرنے والوں کی صحت کے تحفظ کے آرڈیننس برائے 2002 کا سختی سے اطلاق کرے ۔تاکہ ایک صحت مند معاشرہ تشکیل پا سکے۔

May 29, 2008

مشرف مستعفی؟ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ دوستوں کا مشورہ زیرغور

’’مشرف مستعفی ہو جائیں‘‘ دوستوں کا مشورہ ، مشرف کی طرف سے غور کا وعدہ

 صدر پرویز مشرف نے سول سوسائٹی، سیاستدانوں اور سابق فوجی افسروں کے دباؤ پر اپنے خلاف ابھرتی ہوئی رائے عامہ کے پیش نظر اپنے سول اور فوجی دوستوں سے صلاح مشورہ کیا ہے جنہوں نے اس رائے کا اظہار کیا ہے کہ وہ ملک کی بگڑتی ہوئی سیاسی اور معاشی صورتحال کے باعث صدر کا عہدہ چھوڑ دیں۔ ذرائع کے مطابق صدر پرویز مشرف نے ان کے اس مشورے پر سنجیدگی سے غور کرنے کا وعدہ کیا ہے اور امید ہے کہ وہ کچھ دن میں اس بارے میں فیصلہ کرلیں گے۔

ماخذ

May 14, 2008

حکیم آصف علی زرداری۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    
حکیم آصف علی زرداری۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وزیر آباد میں ایک حکیم صاحب ہوتے تھے تھوڑے سے خللِ دماغ سے قطع نظر ان کی تشخیص کی بہت شہرت تھی۔ وہ نبض دیکھ کرمریض کو اس کے جملہ امراض سے آگاہ کردیتے تھے، میں ایک دفعہ گرمیوں کی چھٹیوں میں وزیر آباد گیا تو بیمار پڑگیا۔ میں نے حکیم صاحب کی شہرت سن رکھی تھی، چنانچہ میں ان کی خدمت میں حاضر ہوا۔ میں نے ابھی اپنا مسئلہ بیان کرنے کیلئے لب کھولے ہی تھے کہ انہوں نے میری نبض تھامتے ہوئے اشارے سے چپ رہنے کیلئے کہا اور پھر ایک منٹ تک مکمل”مراقبے“ کی کیفیت میں رہنے کے بعد انہوں نے پوری تفصیل سے میری ساری کیفیت بیان کردی اور یہ سوفیصد صحیح تھی۔ میں بہت متاثر ہوا اور انہیں دوا کے لئے کہا توانہوں نے دعا کے لئے ہاتھ اٹھادئیے ۔ میں نے عرض کی جناب !میرے لئے دوا تجویز کریں ، اس پروہ جھینپ گئے اور پوچھا”کتنے دنوں کے لئے دوا چاہئے؟“ میں نے کہا”جتنے دنوں میں آرام آسکتا ہو۔ تو پھر دو مہینے کی دوا باندھ دیں کیونکہ میں لاہور میں ہوتا ہوں“،چنانچہ ایک بوری ادویات جو پڑیوں کی صورت میں تھیں باندھ کر لاہور لے آیا اور یہ بدمزہ دوا پورے دو مہینے تک بادل نخواستہ نوش جاں کرتا رہا مگر رتی بھر فائدہ نہ ہوا۔ یہ تو مجھے بعد میں پتہ چلا کہ حکیم صاحب موصوف تشخیص کے تو یقینا ماہر تھے لیکن دوا اکثر غلط تجویز کرتے تھے، چنانچہ بہت سے مریض تشخیص ان سے کراتے ا ور دوا کسی دوسرے حکیم سے لیتے تھے۔
اپنے آصف علی زرداری صاحب بھی مجھے وزیر آباد کے حکیم صاحب ہی کی طرح لگتے ہیں۔ آپ کا ہاتھ بیمار قوم کی نبض پر ہے اور وہ اسے بتارہے ہیں کہ تمہاری بیماری کا سبب مسلسل مارشل لا ہیں، ایک غیر آئینی صدر ہے اور اس کے غیر آئینی اقدامات ہیں۔ وہ بیمار کو صحت مند بنانے کے لئے اس غیر آئینی صدر کوبھی ہٹانا چاہتے ہیں، اس کے حکم سے معزول کی گئی عدلیہ کی بحالی بھی چاہتے ہیں۔ وہ یہ بھی جانتے ہیں کہ مسلم لیگ (ن) کی مخلوط حکومت سے علیحدگی کی وجہ سے مریض کی مایوسی میں اضافہ ہوا ہے جس سے مرض طاقت پکڑ سکتا ہے ۔آصف علی زرداری کو یہ بھی علم ہے کہ اگر اتحاد میں مزید رخنہ پڑا تو مریض قوم اور زیادہ مریض ہوجائے گی۔ وہ یہ سب کچھ جانتے ہیں اور خلوص دل سے اپنے مریض کو تندرست ہی دیکھنا چاہتے ہیں لیکن وہ جو دوا تجویز کر رہے ہیں وہ طویل عرصہ استعمال کے بعد بھی موثر ثابت نہیں ہوسکے گی۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ایک تو دوامرض کے مطابق نہیں ہے دوسرے اسے ”عطار“ نے جن لونڈوں کو پڑیا بنانے کے لئے کہا ہے وہ اپنی ”حکیمیاں“ دکھانے سے بھی باز نہیں آ رہے چنانچہ ایک تو نسخہ ناقص ہے اور اوپر سے اس میں ہیرپھیر، سو مریض آصف علی زرداری صاحب سے دور ہوتے چلے جارہے ہیں۔ زرداری صاحب لاہور کے اس ہومیوپیتھ ڈاکٹر کے نقش قدم پر بھی چل رہے ہیں جو معمولی مرض کا علاج کرتے ہی نہیں تھے لیکن اگر کوئی نزلے زکام کا مریض غلطی سے ان کے پاس آ ہی جاتا تو وہ پہلے اسے تیسرے د رجے کی ٹی بی میں مبتلا کرتے تھے اور پھر اس کا علاج کرتے تھے۔ آصف علی زرداری کے پاس اس وقت جو ”مریض“ ہے فی الحال اس کی بیماری ان کی ایک ”پُڑی“ سے ٹھیک ہوسکتی ہے مگر وہ اس سے لمبے پینڈے طے کرانے میں لگے ہوئے ہیں جس سے ان کی شہرت وزیرآباد کے حکیم اور لاہور کے ہومیوپیتھ ڈاکٹر جیسی ہوتی چلی جارہی ہے ۔ زرداری صاحب سے محبت کرنے والے ان کے ساتھیوں میں سے ڈاکٹر سومرو پر خصوصاً یہ فرض عائد ہوتاہے کہ وہ انہیں ”عطائیوں“ کے چکر سے نکالیں، انہیں بتائیں کہ جناب اگر آپ کی تشخیص صحیح ہے تو علاج میں تاخیر کی وجہ اپنے مطب میں موجود پڑیاں باندھنے والے ”لونڈوں“ میں بھی تلاش کرنے کی کوشش کریں۔ چونکہ یہ مشورہ ایک صحیح ”ڈاکٹر“ ہی دے سکتاہے چنانچہ ڈاکٹر سومرو کا نام میں نے اسی لئے تجویز کیا ہے۔
میرے ادبی مرشد احمد ندیم قاسمی مرحوم و مغفور کے ایک گردے میں معمولی سا پرابلم تھا یعنی ایک بہت چھوٹے سائز کا کنکر تھا جو آپریشن سے بآسانی نکالا جاسکتا تھا لیکن ان کے بعض ”خیرخواہوں“ نے انہیں مشورہ دیا کہ وہ آپریشن کے بارے میں سوچیں بھی نہیں چنانچہ وہ انہیں ایسے ”معالجوں“ کے پاس لئے پھرتے رہے جن کادعویٰ تھا کہ وہ صرف دوا سے پتھر کو پگھلا کر رکھ دیں گے چنانچہ انہوں نے یہ کام کر دکھایا۔ پتھر پگھل گیا لیکن جو دوا پتھر پگھلا سکتی تھی وہ گردے کو کیسے معاف کرسکتی تھی چنانچہ اس کے ساتھ گردہ بھی سکڑ کر ناکارہ ہو گیا۔ یہی حال دوسرے گردے کا بھی ہوتے ہوتے بچامگر یہ کام بہرحال آپریشن ہی کے ذریعے ممکن ہوا تاہم ڈاکٹروں کو ان کا نصف بیمار گردہ کاٹنا پڑا اور یوں ندیم صاحب کو بقیہ عمر صرف نصف گردے کے ساتھ بسر کرنا پڑی۔ ڈیڑھ گردہ ”دوستوں“ کی طرف سے ”احتیاط“ کے مشورے کی وجہ سے ضائع ہو گیا۔ زرداری صاحب کے بیرونی دوست انہیں جس احتیاط کا مشورہ دے رہے ہیں یہ احتیاط اگر ”مریض“ کو لے بیٹھے گی تو ”معالج“ بھی اس کے برے نتائج سے محفوظ نہیں رہ سکے گا۔ علامتی گفتگو کی بجائے اگر میں سیدھے سادھے لہجے میں بات کروں تو میرے نزدیک اس وقت ملک و قوم کو مسائل درپیش ہیں۔ وہ بظاہر بہت بڑے ہیں لیکن درحقیقت اگر ارادہ ہو تو ان کا حل بہت آسان ہے۔ مجھے لگتا ہے کہ زرداری صاحب کو کسی خوف نے گھیرا ہوا ہے۔ خوف کوئی بری چیز نہیں ہے۔ منیر نیازی کے بقول بلی جنگلوں میں رہا کرتی تھی ۔ایک دن جنگل کی وحشتوں سے وہ اتنی خوفزدہ ہوئی کہ شیر بن گئی۔ میرا دل کہتا ہے کہ ایک دن یہ خوف آصف علی زرداری کو بھی شیر بنا دے گا۔ اس کے لئے انہیں یہ سوچنا ہے کہ وہ ایک اکثریتی جماعت کے رہنما ہیں، دوسری بڑی جماعت مسلم لیگ (ن) ہے، تیسری ”بڑی جماعت“ وکلا، سول سوسائٹی اور میڈیا پر مشتمل ہے۔ اس کے علاوہ اے پی ڈی ایم کی جماعتیں ہیں، استعمار دشمن اسفندیار ولی کی جماعت ہے، چنانچہ زرداری صاحب اگر کسی اور طاقت پر بھروسہ کرنے یا اس سے خوفزدہ ہونے کی بجائے ان جماعتوں کی طاقت سے دشمن کو للکاریں تو نہ صرف یہ کہ دشمن ان کے مقابلے میں کھڑا نہیں ہوسکے گا بلکہ پاکستان سے خوف کی سیاست ہمیشہ کے لئے ختم ہو جائے گی۔ یہ فتح اگرچہ پوری قوم کی ہوگی لیکن آصف علی زرداری پاکستان کی تاریخ میں اپنا نام سنہری لفظوں میں ثبت کرانے میں کامیاب ہوجائیں گے۔ ایک دفعہ دما دم مست قلندر کا نعرہ تو بلند کرکے دیکھیں ۔
آصف علی زرداری صاحب نے حکومت سازی کے بعد ازراہ کرم مجھے فون کیا تھا اور ازراہ ِ تفنن کہا تھا ”میں آپ کی شاگردی میں آنا چاہتا ہوں!“ جبکہ صورتحال اس سے مختلف ہے۔ میری خواہش ہے کہ آپ آگے بڑھ کر اس اسٹیبلشمنٹ پر وار کریں جس نے ذوالفقار علی بھٹو کو تختہ دار پر چڑھایا، میاں نوازشریف کو قید و بند اور جلاوطنی کی اذیتوں سے گزارا، محترمہ بینظیر بھٹو کو شہید کیا ،ہزاروں سیاسی کارکنوں کو ٹارچر کیا، شہید کیا، ہزاروں پاکستانیوں کو امریکہ کے پاس فروخت کیا ، جو آپ کو بھی گروی رکھنے کی کوشش میں ہے اور جس نے پاکستان کے 16کروڑ عوام کو ان کے حقوق سے محروم رکھا۔ آپ پاکستانی عوام کے اس اندرونی اور بیرونی دشمن کے سامنے ملک کی تمام عوامی قوتوں کے ساتھ ڈٹ جائیں۔ آپ کی یہ للکار آپ کو ہمیشہ کے لئے خوف سے اور پاکستانی قوم کو غلامی سے آزادکردے گی۔ آپ نے تو ازراہ ِ تفنن یا ازراہ ِ انکسار میری شاگردی میں آنے کی بات کی تھی جبکہ میں سنجیدگی سے آپ کی شاگردی میں آنے کی سوچ رہا ہوں۔ بس اس وقت کا انتظار ہے جب ”حکیم“ آصف علی زرداری صحیح تشخیص سے صحیح علاج تک کا مرحلہ طے کرنے میں کامیاب ہوجائیں گے۔
 

آصف مشرف بھائی بھائی ………. شیر نے آخر گھاس ہی کھائی

جیسے اُس سے پہلے نکلے
زرداری بھی ویسا نکلا

قوم نے پھر سے ناک کٹائی
وردی لائی دیا سلائی

رحمان ملک نے آگ جلائی
ملک قیوم نے کھیر پکائی
کالے کوٹ کی شامت آئی
آصف مشرف بھائی بھائی
شیر نے آخر گھاس ہی کھائی

آس کے پتے جھڑ گئے سارے
شیدے شوکی ڈر گئے سارے
دعوے سان پے چڑھ گئے سارے
جسٹس وسٹس وڑ گئے سارے

تو اے بھولے پاکستانی
بھول کے سب کچھ کھوجا اب تو
بند کر ٹی وی سو جا اب تو!

May 13, 2008

رحمان ملک کا میڈیا کو دھمکانا انتہائی قابل مذمت ہے

 
 پریس کو کسی طور ‘’پریس’’ نہیں کیا جا سکتا:پاکستان طبی جرنلسٹس کونسل
رحمان ملک کا میڈیا کو دھمکانا انتہائی قابل مذمت ہے:قاضی ایم اے خالد

لاہور( نمائندگان الیکٹرانک و پرنٹ میڈیا)وزیراعظم کے داخلہ امور کے مشیر رحمان ملک کی جانب سے میڈیا(خصوصاًہردلعزیز معروف کمپیئر ڈاکٹر شاہد مسعود) کو دھمکیاں دینا انتہائی قابل ِ مذمت ہے۔آزادیِ صحافت کسی حکمران کی دین نہیں ۔بلکہ یہ ہمارے اسلاف اور عصرحاضر کے صحافیوں کی جدوجہد کا نتیجہ ہے۔موجودہ دور میں پریس کو کسی طور ‘’پریس’’ نہیں کیا جا سکتا۔جمہوری معاشرے آزاد صحافت سے ہی پنپتے ہیں۔اس امر کا اظہارچیئرمین وبانی پاکستان طبی جرنلسٹس کونسل اور فیڈرل یونین آف کارسپانڈنٹس کے صوبائی راہنما قاضی ایم اے خالد نے ایک ہنگامی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا انہوں نے کہا کہ کل جو آزادیِ صحافت کے نعرے لگارہے تھے آج طاقت میں آکر فن ِصحافت سے تعلق رکھنے والے اداروں وافراد کودھمکا رہے ہیں لیکن صحافی برادری متحد ہے اور وہ ایسے اوچھے ہتھکنڈوں سے نہیں گھبرائے گی اور نہ ہی عوام تک اصل حقائق پہنچانے میں حکمرانوں سے سمجھوتہ کیا جائے گا ۔قاضی ایم اے خالدنے کہا کہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے مطابق آزادیِ اطلاعات ایک بنیادی انسانی حق ہونے کے ساتھ ساتھ تمام آزادیوں کی کسوٹی ہے ‘جمہوریت کی بنیادبھی آزادی اظہارسے ہی وابستہ ہے میڈیا اس نازک دور میںنہ صرف آزادیِ صحافت اور آزادی رائے کا علم سربلند کر رہا ہے بلکہ آئینِ پاکستان کی سربلندی و بحالی کی جنگ بھی لڑ رہا ہے جوجمہوریت کا لبادہ اوڑھے ہوئے آمرانہ ذہنیت رکھنے والے اور غیر ملکی آقاؤں کے تابع حکمرانوں کویقینا ناگوار گذرسکتا ہے۔ اس موقع پر ایک قرارداد کے ذریعے ذرائع ابلاغ کے نمائندوں کو ہراساں کرنے کی مذموم کوشش کی سخت مذمت کی گئی۔ اجلاس سے ممتاز  صحافی راحت نسیم سوہدروی’عبدالوحید’محمدافضل میو’رفیق احمدصابر’احسان الرحمان سحری’نصراللہ ناصر’سرمد جعفری اور دیگرنے بھی خطاب کیا۔

May 12, 2008

بارہ مئِی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔یوم سیاہ

 
بارہ مئی۲۰۰۷
 
جب کراچی میں انسانیت کی جگہ درندگی کا راج ہوا
اور شیطانیت نے دل کھول کر شہر بھر میں رقص کیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
 
 
 
زندگی پر سب راستے بند تھے
اور اجل اپنی راہیں بناتی رہی
حبسِ جاں کے لیے ایک جھونکا نہ تھا
بادِ صر صر دیوں کو بجھاتی رہی
فصل گل کو نہ اذنِ سفر مل سکا
اور آندھی قیامت مچاتی رہی
پا بہ زنجیر کر دی گئی روشنی
ظلمتِ شب سیاہی بڑھاتی رہی
رہ میں لٹتا رہا خواب کا کارواں
رہ زنی منزلیں اپنی پاتی رہی
 

May 5, 2008

واہ رے پاکستان ۔۔۔۔۔ تیری عجب کہانی

 
واہ رے پاکستان ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ تیری عجب کہانی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
صدر ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ پریشانی
وزیر اعظم ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ گیلانی
سپیکر ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ زنانی
آٹا نہ روٹی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ بجلی نہ پانی
واہ رے پاکستان ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ تیری عجب کہانی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
رات ابھی تک باقی ہے
اور۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
 سحر کا انتظار ہے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

February 25, 2008

تم اور کتنی دیر ہو، ہم اور کتنی دیر؟

شام آ گئی ہے، ڈوبتا سورج بتائے گا
 
 
 
 
جاہ و جلال دَام و دِرَم اَور کتنی دیر؟
ریگ رواں  پر نقش قَدَم اَور کتنی دیر؟
اَب اور کتنی دیر یہ وَحشت، یہ ڈر، یہ خوف؟
گرد و غبارِ عہد ستم اور کتنی دیر؟
دَامن کے سارے چاک، گریباں  کے سارے چاک
ہو بھی گئے بہم، تو بہم، اَور کتنی دیر؟
شام آ گئی ہے، ڈوبتا سورج بتائے گا
تم اور کتنی دیر ہو، ہم اور کتنی دیر؟
 

November 23, 2007

صحافیوں پر وحشیانہ پولیس تشدد قابل مذمت ہے

 
 
بہت جلد میڈیا کی آزادی کا سورج
طلوع ہوگا

صحافیوں کی آواز کو دبا کر حکومت اپنے مذموم مقاصد کی تکمیل چاہتی ہے جو موجودہ دور میں ناممکن ہے

حکومت جیو اور دیگرآزاد ٹی وی چینلز کی نشریات فوری بحال کرے : پاکستان طبی جرنلسٹس کونسل

لاہور(نمائندگان الیکٹرانک و پرنٹ میڈیا ) صحافیوں پر وحشیانہ پولیس تشدد قابل مذمت ہے۔ صحافیوں کی آواز کو دبا کر حکومت اپنے مذموم مقاصد کی تکمیل چاہتی ہے جو موجودہ دور میں ناممکن ہے اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق صحیح معلومات تک رسائی ہر انسان کا بنیادی حق ہے۔آمریت کی اندھیری رات ہمیشہ رہنے والی نہیںاسے ختم ہوناہی ہے اور بہت جلد میڈیا کی آزادی کا سورج طلوع ہوگاجب میڈیا بے خوف وخطر ایک بار پھر اپنے فرائض منصبی انجام دے سکے گاانشاء اللہ جیوسمیت تمام چینل پھر کھلیں گے۔ ان خیالات کا اظہار صدر پاکستان طبی جرنلسٹس کونسل قاضی ایم اے خالد نے اپنے ایک بیان میں  کیا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت ایک صحتمنداور پرامن معاشرہ کی تشکیل کےلئے اخبارات اور نشریاتی اداروں سے متعلق آرڈیننس واپس لے کر جیو نیوز’اے آر وائے و دیگرآزادٹی وی چینلز کی نشریات فوری بحال کرے۔علاوہ ازیں حکیم قاضی ایم اے خالد کے زیر قیادت پاکستان طبی جرنلسٹس کونسل کے ایک وفد نے اظہار یکجہتی کےلئے جیو کے احتجاجی کیمپ کا دورہ کیا اور گیسٹ بک میں اپنے تاثرات درج کئے۔

http://www.express.com.pk