اسلامی جمہوریہ پاکستان زندہ باد


HakimKhalid's Blog

چار ستمبر۔۔۔۔۔۔۔۔ عالمی یوم حجاب ۔۔۔۔۔۔۔۔


اے نبی اپنی بیویوں‘ بیٹیوں اور اہل ایمان کی عورتوں سے کہہ دو کہ اپنے اوپر اپنی چادروں کے پلو لٹکا لیا کریں یہ زیادہ مناسب طریقہ ہے تاکہ وہ پہچان لی جائیں اور انہیں ستایا نہ جائے(احزاب 59:33:)

حجاب عورت کا وقار ‘ احترام اور تحفظ ہے حجاب مسلمان عورتوں کے لئے ایسا فریضہ ہے جو وہ احکام الہی کے تحت ادار کرتی ہے۔ فطرت بہتر جانتی ہے کہ قیمتی ترین ہیرے جواہر خصوصی توجہ اورمخصوص حفاظت کاتقاضا کرتے ہیں۔

 یہ حجاب ہے جو عورت کو خوبصورتی بھی دیتا ہے اور اس کومعاشرے کی آلودگی سے بھی بچاتا ہے حجاب مسلمان عورت کا حق بھی ہے اور فخر بھی ۔ مگر آج حجاب کو مسئلہ بنا کر اچھالا جارہا ہے ۔

واضح رہے قرآنی احکامات اور احادیث کے باوجود حجاب کو کلچر ‘ روایت اور معاشرتی و سماجی رویہ قرار دے کر اس کی اہمیت کو کم کرنے کی کوشش کی جارہی ہیں۔
 موجودہ دور میں عالمی استعماری قوتوں نے امت مسلمہ پر تہذیبی یلغار کرتے ہوئے اسلامی شعائر کو ہدف بنایا ہوا ہے ۔ جہاد ‘ ناموس‘ رسالت خاندانی نظام اور حجاب ان کے خصوصی اہداف ہیں ۔

ہر جگہ پر شعائر کو جو اسلامی تہذیب وثقافت کی علامات ہیں کو انتہاپسندی قدامت پرستی اوردہشت گردی سے جوڑا جارہا ہے ۔

فرانس ‘ہالینڈ اور ڈنمارک میں حجاب پر پابندی عائد کی جاچکی ہے ۔ ترکی میں یہ ایک گز کاٹکڑا اتنی خطرناک علامت بن چکا ہے کہ ایک جمہوری حکومت کو کمزور بنانے کا باعث بنتا جارہا ہے۔ با حجاب طالبات پر تعلیم اورملازمت کے دروازے بند کئے جارہے ہیں۔

امت مسلمہ بالخصوص اورمغربی ممالک میں رہنے والی مسلمان ان متعصب رویوں اورامتیازی قوانین کی وجہ سے مسائل سے دوچار ہیں۔

عالمی یوم حجاب 4 ستمبر کو کیوں منایا جاتا ہے؟؟ یہ سوال ذہنوںمیں اٹھتا ہے تو اس کا پس منظر کچھ اس طرح سے ہے کہ جنوری 2004ءمیں لندن میں ” اسمبلی فار دی پروٹیکشن آف حجاب “ کے زیر اہتمام ایک اجلاس منعقد کیا گیا اور اس امتیازی سلوک کے خلاف مشترکہ پلیٹ فارم سے آواز بلند کرنے کےلئے باقاعدہ مربوط اورمنظم سعی و جہد کا فیصلہ کیا گیا۔

 چونکہ 2 ستمبر 2003ءمیں فرانس میں ہیڈ سکارف پر پابندی کاقانون منظور کیا گیا تھا اورمسلمانوں میں اس بات پر بڑا غم وغصہ پایا جاتا تھا اس لئے لندن کے میئر لونگ سٹون نے لندن میں امت مسلمہ کے سرکردہ علماءاور تحاریک اسلامی کے سربراہوںکو بلا کر ایک کانفرنس کاانعقاد کیا ۔
 
کانفرنس میں 300 کے قریب مندوبین شریک ہوئے اس کانفرنس کی صدارت علامہ یوسف القرضاوی نے کی اور انہوںنے کانفرنس کے اعلامےے میں 4 ستمبرکو یوم حجاب منانے کا اعلان کیا ۔ اس طرح سے 4 ستمبر عالمی طورپر یوم حجاب قرار پایا اورستمبر 2004ءسے ہی پوری دنیا میں اسے منایا جاتا ہے۔

 اس دن مسلمان عورت اس بات کا اعلان کرتی ہے کہ حجاب اسلام کا عطا کردہ معیار عزت و عظمت ہے ‘ حجاب ہمارا حق ہے یہ کوئی پابندی یا جبر کی علامت نہیں ہے بلکہ حکم خدا وندی ہے اورحجاب کا پسماندگی اور دہشت گردی سے کوئی تعلق نہیں ہے بلکہ یہ ہمارا فخر اور وقار ہے۔

ان دنوں میں مغربی ممالک میںایک خطرناک رجحان سامنے آیا ہے یہاں کے لوگ مسلمان لڑکیوں کے حجاب سے خائف ہیں ‘ اسی لئے وہاں کے ذرائع ابلاغ اور مخصوص ذہنیت رکھنے والے لیڈر دن رات حجاب مخالف پروپیگنڈہ میں مشغول ہیں۔

ابھی کچھ ہی روز قبل فرانس میں حجاب کے استعمال پر قانونی طورپر پابندی عائد کی گئی ہے جس کے خلاف دنیا بھر میں صدائے احتجاج بلند کی گئی اسی طرح کے احتجاج جرمنی کے کئی صوبوں میں اور بیلجیم میں بھی کئے گئے ہیں ۔ فرانس کے علاوہ برطانیہ ‘ جرمنی اور دیگر مغربی ممالک میں بھی حجاب کا استعمال کرنے والی طالبات اور دیگر خواتین کوپریشانیوں کاسامناکرنا پڑرہاہے ۔

 مغربی ذرائع ابلاغ کا دعوی ہے کہ حجاب کا استعمال یورپی قرارداد برائے حقوق انسانی کی خلاف ورزی ہے اور اس طرح حجاب مخالف قوانین کے ذریعے مسلم عورتوںکو اس کے پردہ کے بنیادی حق سے محروم کیا جارہا ہے۔
حجاب
حقیقت یہ ہے کہ مغربی معاشرہ مسلم سماج میں بڑھتی ہوئی دینی بیداری اورشعور کو دیکھ کر خوف زدہ ہے‘ یہ خوف 11 ستمبر کے حملوں کے بعد دوگنا ہوگیا ہے ۔ اسی وجہ سے مسلم معاشرے میں حجاب کے بڑھتے ہوئے استعمال سے مغربی ذرائع ابلاغ کافی خوف زدہ نظر آرہے ہیں ۔

 یہ ان کا خوف ہی ہے کہ وہ جبرا طالبات اورمسلم عورتوں کو پردہ کے استعمال سے دور رکھنا چاہتے ہیں اور اس کے خلاف زبردست پروپگینڈہ مہم جاری کر رکھی ہے۔ مغربی ممالک میںحجاب کے خلاف بڑھتے ہوئے اس رجحان کومد نظر رکھتے ہوئے برطانوی مسلمانوں کی تنظیم ”مسلم ایسوسی ایشن آف برٹن“ نے عالمی سطح پرلندن میں حجاب کانفرنس کااہتمام کیا تاکہ دنیا کو یہ باور کرایا جاسکے کہ مسلمان عورتیں حجاب کسی جبر یا دباﺅ کی وجہ سے نہیں لیتیں بلکہ وہ اپنی مرضی سے مذہب اسلام کے احکام پر عمل پیرا ہونے میں آزاد ہیں۔ واضح رہے کہ فرانس نے اسکول میںحجاب لینے پر پابندی عائد کردی ہے جس کااطلاق ستمبر سے ہوگا۔

 مہمان خصوصی ڈاکٹر یوسف القرضاوی نے فرانس میں مخاطب کرتے ہوئے علامہ قرضاوی نے کہا کہ فرانس کو چاہےے کہ وہ حجاب پر پابندی کااپنا فیصلہ منسوخ کرے۔ کیونکہ یہ یہودی باڑے (علیحدہ بستی) والی ذہنیت کی عکاسی ہے اور اس طرح آپ مسلمانوں کوناراض کررہے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ یہ انسانی تہذیب کے منافی ہے بلکہ اس سے پیچھے ہٹنے کے مترادف ہے ۔ یہ مذہبی اوربنیادی حقوق کی خلاف ورزی بھی ہے۔

 لندن کے میئر کین لونگ سٹون کی میزبانی میں بلائی گئی اس کانفرنس میں دنیا بھر کے تقریبا 300 مندوبین نے شرکت کی۔ اس دوران حاضرین نے اس بات کا عہد بھی کیا کہ وہ دنیا بھرمیں کسی مسلم خاتون کے ساتھ حجاب کے معاملے میں ہونے والی ناانصافی کے خلاف اس کی حمایت کریں گے۔

برطانیہ میں حجاب پر کسی طرح کی کوئی پابندی عائد نہیں ہے ۔ میزبان لونگ سٹون نے کہاکہ برطانیہ کے مسلمانوں کو فرانس یا جرمنی جیسے حالات کا سامنا کرنا پڑے گا۔ ایسے حالات میں جب کہ مغربی ممالک میں یہ عام رجحان بنتا جارہا تھا کہ مسلمانوں کے مذہبی شعار کا ہدف ملامت بنایا جائے۔حجاب کے خلاف ہونے والے فیصلے اسی رجحان کی عکاس کرتے ہیں۔ اس کے خلاف صف آراءہونا وقت کی ضرورت تھی اور اس ضرورت کو برطانوی مسلمانوں کی اس تنظیم نے بروقت محسوس کیا اس کاز میں دیگر کئی اہم تنظیمیں بھی شامل ہیں ۔ کانفرنس میں 4 ستمبر 2004ءکو عالمی یوم حجاب کے طورپر منانے کافیصلہ کیا گیا۔

دلچسپ امریہ ہے کہ مغربی ممالک میں اسلامی شعار کو اپنانے کا جذبہ موجودہ نسل میں تیزی سے پروان چڑھ رہا ہے جو کہ مغربی ذرائع ابلاغ اور وہاں کی حکومتوں کے لئے تشویش کا باعث بنا ہواہے کیونکہ ےہاں مسلمانوں کی وہ پہلی نسل جو مختلف اسلامی ممالک سے ہجرت کر کے آئے تھے ان میں یہ رجحان نہیں پایا جاتا تھا۔اس طرح یہ اس بات کا اشارہ ہے کہ مغربی ممالک میں آباد مسلمانوں کی موجودہ نسل تیزی سے اسلام کی طرف لوٹ رہی ہے۔

یہ جہاں ایک خوش آئند پیشرفت ہے ‘وہیں اسلام دشمن عناصر کے لئے تشویش کا باعث بھی۔اب ضرورت اس بات کی ہے کہ عام آدمی کو اسلامی قوانین سے واقف کراےا جائے اور اس یہ باور کرایا جائے حجاب یا دیگر مذہبی شعار کا استعمال دباو یا زیادتی کی وجہ سے نہیں کیا جاتا جیسا کہ حجاب مخالف پرو پیگنڈہ کے ذریعے باور کرانے کی کوشش کی جا رہی ہے بلکہ یہ ہر فرد کا آزادانہ فیصلہ ہوتا ہے اور یہ مسلمان عورت کا حق بھی ہے اور اسکا افتخار بھی جو وہ اللہ کا حکم سمجھ کر قبول کرتی ہے۔

جیسے اسے نماز اور روزے کا حکم دیا گیا ہے اسی طرح اسے حجاب کا بھی حکم دیا گیا ہے جسے وہ پورا کر کے احکام الہی کی بجا آوری کرتی ہے۔

 حجاب ہمارا فخر بھی ہے اور حق بھی۔یہ ایک تکریم ہے جو ھمارے رب نے ہمیں دی ہے اور اسکا ذائقہ بے حجاب عورت کو نصیب نہیں ہے۔حجاب ہمارا وقار بھی ہے اور ہمارا اسلحہ بھی جو ہمیں کردار کی مضبوطی عطا کرتا ہے اور ہمیں حق کی راہ میں جدو جہد کے لئے اپنے رب کے حکم کی پابندی کا اعزاز بخشتا ہے۔

منظربدل رہا ہے‘ہماری بہت بڑی تعداد زندگی کے ہر میدان میں باطل قوتوں کو لرزہ بر اندام کئے ہوئے ہے۔ امتحان کے نتائج میں پوزیشن لینے والی طالبات کی اکثریت کا با حجاب ہونا اور حجاب کی خاطر عدالتوں میں مقدمے دائر کرکے جیتنا اور حجاب پر پابندیوں کے خلاف صف آرا ہو کر جاں کا نذرانہ دینے سے بھی گرےز نہ کرنا وہ علامات ہیں کہ صبح انقلاب کے ماتھے کی روشنی بن کر نوید دے رہی ہیں کہ سحر قریب ہے۔

تحریر:عالیہ منصور 

آشوب چشم میں ٹھنڈے پانی کے چھینٹے اور عرق گلاب مفید ہے :حکیم قاضی ایم اے خالد


لاہور:وطن عزیزکے سیلاب زدہ علاقوں کے ساتھ ساتھ لاہور سمیت دیگرشہر وں میں بھی آشوب چشم کی وبا ء پھیل گئی ہے۔ متاثر ہونے والوں میں بچے’ بڑے’مرد اور خواتین شامل ہیں۔اس سلسلے میں مرکزی سیکرٹری جنرل کونسل آف ہربل فزیشنز پاکستان اور یونانی میڈیکل آفیسر حکیم قاضی ایم اے خالد نے میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے بتایا کہ آشوب چشم ایک موسمی وباء ہے جوہر سال مون سون میں پھیلتی ہے تاہم اس سال تاریخ کے بدترین سیلاب کی وجہ سے اس مرض کی وباء میںشدت انتہائی زیادہ ہے اس وائرل مرض کا دورانیہ کم و بیش ایک ہفتہ پر مشتمل ہوتاہے۔جدید تحقیقات اور ایلو پیتھک ماہرین کے مطابق آشوب چشم کا کوئی خاص علاج نہیں لیکن چودہ سوسال قبل طبیب اعظم نبی کریم حضرت محمدصلی اللہ علیہ وسلم نے آشوبِ چشم کا علاج ٹھنڈے پانی کے چھینٹے مارنے سے فرمایا۔ (بحوالہ نزہ المجا لس جزثانی)دنیا بھر کے تمام معالجین اس مرض سے نجات کیلئے طب نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کے اسی علاج کا مشورہ دیتے ہیں۔یونانی میڈیکل آفیسر کا کہنا تھا کہ آشوب چشم سے متاثرہ مریضوں کو چاہئے کہ وہ ٹھنڈے و صاف پانی یا عرق گلاب سے آنکھیں بار بار دھوئیں ‘خالص شہد سلائی سے لگانا مفید ہے علاوہ ازیں عرق گلاب سو ملی لیٹرمیں ایک گرام پھٹکری سفید شامل کرکے بطور آئی ڈراپس استعمال کریں یہ نسخہ بارہ سال سے کم عمر بچوںکیلئے نہیں ہے انہیں صرف صاف ٹھنڈے پانی یا عرق گلاب کا استعمال کروائیں۔دھوپ کی عینک کا استعمال اوربرف سے آنکھوں کی ٹکور فائدہ مندثابت ہوتی ہے یاد رہے برف صاف پانی کا ہو۔ ٹھنڈک سے آشوب چشم کاوائرس کمزور پڑ جاتاہے۔ گرمی’حبس اور بارش کے بعد آلودہ اور سیلابی پانی کی وجہ سے آشوب چشم کاوائرس نشو و نما پاتا ہے اور آنکھوں کو متاثر کرتا ہے۔ جیسے جیسے گرمی کی شدت کم ہوتی ہے یہ وائرس دم توڑ دیتا ہے۔ وائرس سے متاثر ہونے کی وجہ سے آنکھ سرخ ہو جاتی ہے اورتکلیف کی شدت سے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ آنکھ میں ریت گر گئی ہو۔ ایک آنکھ کے متاثر ہونے کے بعد دوسری آنکھ عموماً 48گھنٹے بعد متاثر ہو جاتی ہے۔ احتیاطی تدابیر سے آگاہ کرتے ہوئے حکیم خالد نے کہا کہ یہ ایک چھوتدار مرض ہے جومتاثرہ فرد کے زیر استعمال اشیا ء خصوصاًتولئے’رومال یاا لودہ ہاتھ ملانے سے ایک سے دوسرے کو لگتی ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ ایسے افراد جو آشوب چشم سے متاثر ہوں وہ بار بارصابن یالیکوئڈ سوپ سے ہاتھ دھوئیں۔ آنکھوں سے بہنے والے پانی کو ہاتھ کی بجائے ٹشو پیپر سے صاف کر یں۔ کسی قسم کی پیچیدگی کی صورت میںفوری طور پر ہسپتال یاماہر امراض چشم سے رجوع کریں۔ آشوب چشم میں مندرجہ بالا بے ضرر گھریلو علاج کے علاوہ طرح طرح کی ادویات ازخود استعمال کرنے سے گریز کرنا چاہئے کیونکہ غلط دوا کے استعمال سے قرنیہ متاثر ہونے کا شدید خطرہ ہوتا ہے۔
٭…٭…٭
http://healthnewspaper.co.cc/
news@healthlineint.co.cc
qazimakhalid@who.net

سترہ رمضان ۔۔۔۔۔۔۔ یوم الفرقان۔۔۔۔۔۔۔۔نزول قرآن اور غزوہ بدر کادن

سترہ رمضان المبارک تمام دنیائے انسانیت اور مسلم امہ کےلیےانتہائی اہمیت کا حامل ہے کیونکہ اسی دن نزول قرآن کی ابتدا ہوئی۔۔۔۔۔۔۔۔ قرآن کہ جس کی حفاظت کا ذمہ خود باری تعالی نے اٹھایا۔۔۔۔۔۔۔۔جبکہ
BADAR
 رمضان المبارک کی سترہ ١٧ تاریخ کو غزوہ بدر کا واقعہ بھی ہوا جو تاریخ اسلام کا بہت بڑا واقعہ اور عظیم الشان معرکہ تھا۔ غزوہ بدر کےافق پر توحید کامل کا آفتاب پورے عالم پر ہمیشہ کےلیےطلوع ہوگیا اسی لیےقرآن مجید نےغزوہ بدر کا نام یوم الفرقان یعنی فیصلےکا دن رکھا ہےکہ وہ آخری فیصلہ کا دن تھا۔یہ معرکہ مشرکین کی شکست فاش اور مسلمانوں کی فتح مبین پر ختم ہوا۔امت مسلمہ کو غزوہ بدر کےحقائق اور تاریخی پس منظر کو دیکھنا چاہیےاور اس کےمقاصد اور نصب العین کو چراغ راہ بنانا چاہیے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کاش ! مسلمان اور مسلم دنیا موجودہ حالات میں بدر کےتاریخی کردار سےسبق لےکر اپنےاندر اسلامی اتحاد و اخوت پیدا کرےاور اس تاریخی واقعہ کو بھی حرز جان بنائےکہ حقیقی نصب العین کی تکمیل چند سالوں کےبعد فتح مکہ کی شکل میں ہوئی وہ بھی رمضان المبارک کی بیس ٢٠ تاریخ تھی جس کی وجہ سےپورا جزیرہ العرب عالم گیر اسلامی برادری کا مرکز بن گیا اور عالمی سطح پر غلبہ توحید کی روشنی پھیل گئی تاکہ دنیائےانسانیت حقیقی اسلام کےغلبہ و اظہار کا مشاہدہ کرلےجو اس کےلیےاتمام حجت بنے۔

فوج کی آمد ۔۔۔۔۔۔۔خوش آمدید۔۔۔۔۔۔۔لیکن غیر آئینی نہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔ بلکہ آئینی

الطاف بھائی نے یہ بیان دے کر عوام کی دکھتی ہوئی نبض پر ہاتھ رکھ دیا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ جس کا ساتھ دینے کےلیے جی ایچ کیو کے خصوصی خود ساختہ خدمت گار پیر صاحب پگارو نے بھی بیان دے مارا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ن لیگ کے بقول عمران خان بھی الطاف بھائی کی زبان بول رہے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔الطاف بھائی سے لاکھ تحفظات سہی لیکن اس معاملے میں ان کی بات عوام کے دلوں میں گھر کر رہی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اگرچہ تبدیلی کےلیے عمران خان کا آئڈیا کچھ زیادہ اہمیت کا حامل ہے کہ مارشل لاء یا آئین توڑنے کی بجائے فوج کو آئینی طریقہ سے بذریعہ عدلیہ لایا جائے اور سسٹم کی درستگی کے بعد باعزت رخصتی کی جائے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔یہ بات کچھ زیادہ دل کو لگتی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔خوش آمدید۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔پاک فوج۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔لیکن غیر آئینی نہیں بلکہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ آئینی طور پر۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ 

صبح آزادی۔۔۔۔۔چلے چلو کہ وہ منزل ابھی نہیں آئی۔۔۔۔۔

 
چودہ اگست 1947ء سے قبل بلاواسطہ ہم انگریز کے تسلط میں  تھے اور اب 14 اگست 2010ء کو ہم بزدل حکمرانوں کی بدولت بالواسطہ بیرونی آقاؤں کی غلامی میں ہیں کیونکہ ہم اپنی داخلہ ، خارجہ پالیسی میں کسی بھی طرح آزاد و خود مختار نہیں بلکہ ہم تو اپنے سکولوں کا نصاب بھی خود تیار نہیں  کر سکتے اور موجودہ غلامی براہ راست غلامی سے بھی زیادہ ذلت آمیز ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔یہ بانیان پاکستان کے خوابوں کی تعبیر نہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
 بقول نثار ناسک۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آزادی ملی بھی مجھے تو کچھ ایسے ناسک
جیسے کمرے سے کوئی صحن میں  پنجرہ رکھ دے
ان حالات میں  ہمیں  14 اگست 2010ء کو جشن آزادی کے موقع پر سوچنا چاہئے کہ کیا ہم آزاد ہیں؟۔۔۔۔۔۔۔۔’‘ہمیں جشن منانا چاہیئے ؟؟؟’’ ۔ یا غلامی سے آزادی کےلیے دوبارہ تحریک پاکستان جیسی جدوجہد ضروری ہے۔
بقول فیض ۔۔۔۔۔۔۔۔چلے چلو کہ وہ منزل ابھی نہیں  آئی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
صبح آزادی؟؟؟
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
یہ داغ داغ اُجالا، یہ شب گزیدہ سحر
وہ اِنتظار تھا جس کا، یہ وہ سحر تو نہیں
یہ وہ سحر تو نہیں  جس کی آرزو لے کر
چلے تھے یار کہ مل جائے گی کہیں  نہ کہیں
فلک کے دشت میں  تاروں  کی آخری منزل
کہیں  تو ہو گا شب سست موج کا ساحل
کہیں  تو جا کے رُکے گا سفینہ غم دل
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جگر کی آگ، نظر کی اُمنگ، دل کی جلن
کسی پہ چارۂ ہجراں  کا کچھ اثر ہی نہیں
کہاں  سے آئی نگارِ صبا، کدھر کو گئی
ابھی چراغِ سر رہ کو کچھ خبر ہی نہیں
ابھی گرانیٔ شب میں  کمی نہیں  آئی
نجاتِ دیدہ و دل کی گھڑی نہیں  آئی
چلے چلو کہ وہ منزل ابھی نہیں  آئی
———————-
فیض احمد فیض
———————-
سیلاب زدگان بہن بھائیوں کی مدد ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ہمارا اخلاقی اور مذہبی فریضہ

زکواۃ کی بروقت ادائیگی۔۔۔۔۔۔۔۔استقبال رمضان اور اسلامی سوشل جسٹس کا نشان

پیغام زکواۃ