اسلامی جمہوریہ پاکستان زندہ باد
HakimKhalid's Blog

آ ٹہری برسات تو پلکیں بھیگ گئیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔

آٹہری برسات تو پلکیں بھیگ گئیں
روئےجب بھی رات تو پلکیں بھیگ گئیں
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آنکھوں کو جب گہری کالی برکھا کی
سونپ گیا سوغات تو پلکیں بھیگ گئیں
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اپنے بھی جب چھوڑ کے واپس پلٹے تھے
تھاما اس نے ہاتھ تو پلکیں بھیگ گئیں
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
یوں تو ہر نقصان پہ حاوی ضبط رہا
بکھر گئی جب ذات تو پلکیں بھیگ گئیں
پہلے تو آنکھوں میں حیرت ٹہری تھی
سمجھ میں آئی بات تو پلکیں بھیگ گئیں
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بات بچھڑنے پر ہی ختم نہیں ہوتی
چلا جو کوئی ساتھ تو پلکیں بھیگ گئیں
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ہر الزام کو سہنے کا کچھ عہد تو تھا
اور چھڑی جب بات تو پلکیں بھیگ گئیں
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کرن رباب نقوی
 

٭موسمی امراض سے بچاؤکیلئے برسات میں خصوصی احتیاط برتیں : حکیم خالد٭


٭…رہائشی کمروں میں گوگل اور حرمل کی دھونی دیں
٭…پانی ابال کر پیئں ٭…لیموں پانی کا بکثرت استعمال کریں
 ٭…سرکہ موسم برسات کی بیماریوں کا بہترین علاج ہے

لاہور۔۔۔اگر موثراحتیاطی تدابیر اختیار نہ کی جائیں تو موسم برسات بیشتر امراض کا باعث بنتا ہے اکثر وبائی امراض بھی اسی موسم میں پھوٹتے ہیں جسکا بنیادی سبب ‘ہمارے ہاں ناقص سیوریج سسٹم کی وجہ سے سیلابی اور بارشوں کے پانی کاعرصہ دراز تک جگہ جگہ کھڑا ہو جانا ہے جو متعفن ہوکر وبائی امراض کا باعث بنتا ہے ملیریا’ٹائیفایڈاور دیگر موسمی بخار’یرقان’ہیپا ٹائٹس ‘گیسٹرو’اسہال(دست)پیچش و پیٹ کے امراض ‘جسم میں کھچاؤٹ ‘دردیں ‘خون کی خرابی پھوڑے پھنسیاں اور گلے کی سوزش جیسے امراض برسات میں عام ہو جاتے ہے اس امر کا اظہار مرکزی سیکرٹری جنرل کونسل آف ہربل فزیشنز پاکستان اور یونانی میدیکل آفیسر حکیم قاضی ایم اے خالد نے کونسل کے زیر اہتمام ہفتہ وار مجلس مذاکرہ میں کیا۔انہوں نے کہا کہ اس موسم میں رہائشی کمروں کو کھلا رکھنا چاہئے تاکہ تازہ ہوا اوردھوپ سے وہ خشک رہیں نیز ہر ہفتے ان میں گوگل اور حرمل کی دھونی دیں یا دیگر جراثیم کش ادویہ کا اسپرے کریں۔ گندے پانی اور کیچڑوغیرہ کی صفائی کا بھی فوری بندوبست ہونا چاہیئے موسم برسات میں اے سی یا روم کولرکے زیادہ استعمال سے اعصابی کھنچاؤ’دردیں اوربخارجیسی کیفیت پیدا ہو سکتی ہے اس موسم میں ہلکے سوتی ملبوسات زیادہ بہتر ہیں جسمانی صفائی کا خاص خیال رکھیں آجکل کے دور میں جو پانی ہمیں میسّرہے اسے ہمیشہ ابال کر ہی پیئں لیکن خاص طور پرموسم برسات میں تو ابالے بغیر پانی ہرگزنہیں پینا چاہیئے اس موسم میں بعض پھل مثلا امرود ‘خربوزہ’سردا’گرمااور کھیرا وغیرہ کھانے میں خاص احتیاط کریں پھل اور سبزیاں تازہ اور اچھی طرح دھو کر استعمال کریں گلے سڑے یا پہلے سے کٹے ہوئے پھل نہ کھائیں ۔زیادہ عرصے سے ریفریجریٹر میں رکھا ہوا گوشت اور دیگر باسی اشیاء ہرگز استعمال نہ کریں کھانا ہمیشہ بھوک رکھ کراور تازہ کھائیں ذرا سی بداحتیاطی آپ کو اسہال (دست) یا ڈائریا (پیچش)میں مبتلاء کر سکتی ہے ۔ اس موسم میں پسینے کی زیادتی اور دیگر وجوہات سے جسم میں نمکیات اور حیاتین کی کمی ہو جاتی ہے لہٰذا اس کے تدارک کیلئے لیموں کی نمک ملی سکنجبین بہت مفید ہے اسی طرح طب نبویۖ کے مطابق سرکہ موسم برسات کی بیشتر بیماریوں کا بہترین علاج ہے  ہیضہ سے بچنے کے لئے سرکے میں بھیگی ہوئی پیاز کا استعمال بہتر ہے سرکہ خون کو صاف کر تا ہے اور پھوڑے پھنسیوں سے بچاتا ہے پیاس کو تسکین دیتا ہے جسم کی حرارت کو اعتدال پر رکھتا ہے غذا کو جلد ہضم کرتا ہے نیز جسم سے فاسد اور غلیظ مادوں کو نکالنے میں معاون ہے ۔ برسات کے موسمی امراض سے بچاؤاور ان کے خلاف قوت مدافعت پیدا کرنے کیلئے لہسن ’ ادرک اور پیاز کا استعمال نہائت مفید ہے اگر صحیح غذائی احتیاط اور حفظ صحت کے اصولوںپر عمل کریںتو یقیناہم اس موسم کے عوارضات اور امراض سے بچ سکتے ہیں۔ 

احمق حکمرانوں کی ایک اور احمقانہ حرکت۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

بانی پاکستان کو پس پشت ڈالنے والے حکمرانوں کو یاد رکھنا چاہئے کہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ پوری پاکستانی قوم کا اس بات پر اتفاق اور اتحاد ہے کہ قائد اعظم پاکستان کے سب سے بڑے لیڈر ہیں اور تاقیامت رہیں گے۔باقی سب ثانوی حیثیت رکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ یہاں روشن خیال اور قدامت پسندوں کی تقسیم نہیں کی جاسکتی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔حرمت قائداعظم کے حوالے سے سب کی رائے یکساں ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
قائداعظم کو پس منظرمیں رکھنے والے انشاءاللہ بہت جلد خود پس منظر میں چلے جائیں گے۔۔۔۔۔۔۔ایوان صدر اور ایوان وزیراعظم کے ترجمان کی طرف سے غلطی تسلیم کرنے کی بجائے تردیدی بیان شاہ سے زیادہ شاہ کی وفاداری سے زیادہ اہمیت نہیں رکھتا۔۔۔۔۔۔۔۔۔انہیں اس بات کی سمجھ ہونی چاہیے کہ اس تقریب کی کوریج دنیا بھر کے میڈیا پر ہونا لازمی امر تھا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اور پاکستانی قوانین کے مطابق صدر ،وزیراعظم کے دفاتر سمیت تمام سرکاری دفاتر میں قائد اعظم کی تصویر لگانا اور اس تصویر کا پروٹوکول انتہائی اہم و لازم ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔نظر یہی آ رہا ہے کہ یہ غلطی نہیں بلکہ اغیار کے غلاموں کا مخصوص ایجنڈا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔جس کی ابتدا گورنر ہاؤس لاہور سے کی گئی۔۔۔۔۔۔۔۔لیکن احمق حکمرانوں کو یہ جان لینا چاہئے کہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جاہ و جلال دَام و دِرَم اَور کتنی دیر؟
ریگ رواں پر نقش قَدَم اَور کتنی دیر؟

ایوان صدر اور وزیراعظم ہائوس سے قائداعظم کی تصاویر ہٹا دی گئیں‘ عوام کا شدید احتجاج۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ایوانِ صدر اور وزیراعظم ہائوس میں ہونے والی تقریبات میں بانی پاکستان قائداعظم محمد علی جناح کی تصاویر ہٹا دی گئی ہیں۔ تین روز قبل صدر آصف علی زرداری نے ایوان صدر میں ٹونٹی 20ورلڈ کپ جیتنے والی کرکٹ ٹیم کے اعزاز میں ایک استقبالیہ دیا۔ اس موقع پر کرکٹ ٹیم کے کھلاڑیوں نے صدر آصف علی زرداری اور وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کے ساتھ ایک گروپ فوٹو بنوایا۔ اس موقع پر پسِ منظر میں ذوالفقار علی بھٹو‘ بے نظیر بھٹو‘ بلاول بھٹو اور خود صدر زرداری کی تصاویر دیوار پر لگی ہوئی تھیں لیکن بانی پاکستان کی تصویر نظر نہیں آئی۔ اسی طرح دو روز قبل جمعہ کو اسلام آباد میں انٹرن شپ ایوارڈ دینے کی تقریب میں وزیراعظم مہمان خصوصی تھے۔ اس موقع پر سٹیج پر ذوالفقار علی بھٹو‘ بے نظیر بھٹو‘ صدر زرداری اور وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کی تصاویر تو تھیں لیکن بانی پاکستان کی تصویر دکھائی نہیں دی۔ ایسی ایک تصویر میں صدر زرداری ڈاکٹر شعیب سڈل سے وفاقی محتسب کے عہدے کا حلف لے رہے تھے لیکن پس منظر میں قائد عوام ذوالفقار علی بھٹو کی تصویر تو آویزاں نظر آئی لیکن قائداعظم محمد علی جناح کی تصویر غائب تھی۔ امریکی وفد سے ملاقات کے دوران بھی قائداعظم کی تصویر دکھائی نہیں دی۔ قانون کے تحت صدر‘ وزیراعظم اور سرکاری افسران کے دفاتر میں قائداعظم کی تصاویر آویزاں کرنا لازمی ہے۔
 
سٹاف رپورٹر نوائے وقت کے مطابق ایوان صدر اور وزیر اعظم ہائوس سے بانی پاکستان کی تصاویر ہٹانے پر ملک بھر میں غم و غصے کی لہر دوڑ گئی ہے اور عوام نے اس حکومتی اقدام پر شدید احتجاج کیا ہے۔ نوائے وقت سے ٹیلی فون پر گفتگو کرتے ہوئے شاہ کمال راواں کے رہائشی تاجر تنویر اختر نے کہا کہ برصغیر کے مسلمانوں کو علیحدہ وطن دینے والے کی تصویر کے ساتھ یہ سلوک قوم کبھی نہیں بھولے گی۔ ٹائون شپ کے جمیل حسین نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) اور دیگر محب وطن جماعتیں اس حکومتی اقدام کیخلاف فوری طور پر قومی و صوبائی اسمبلیوں میں احتجاج ریکارڈ کرائیں اور حکمران اتحاد سے الگ ہو جائیں۔ نواب ٹائون کے افتخار کھوکھر نے کہا کہ بانی پاکستان کی تصویر کے ساتھ یہ معاندانہ سلوک کر کے حکمرانوں نے اپنے پائوں پرخود کلہاڑی ماری ہے جس کا خمیازہ انہیں جلد بھگتنا پڑے گا۔ نیو گارڈن ٹائون کے شکیل احمد نے کہا کہ یہ خبر سن کے مجھے ایسا لگا جیسے میں بھارت میں رہ رہا ہوں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کے جیالے حکمران نہ جانے کیا ثابت کرنا چاہتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ اس اقدام کے ذمہ داروں کیخلاف سخت ایکشن لیا جانا چاہئے۔ ایوان صدر اور وزیراعظم ہائوس میں بانی پاکستان کی تصاویر ہٹانے کی خبروں پر مسلم لیگی حلقوں میں بھی تشویش کی لہر دوڑ گئی۔ مسلم لیگی حلقوں نے اس اقدام کو حکمرانوں کی بدنیتی سے تعبیر کرتے ہوئے اس کی تحقیقات کرانے اور تصاویر فوری دوبارہ آویزاں کرنے کا مطالبہ کیا۔ مسلم لیگ (ن) کے رکن قومی اسمبلی خواجہ سعد رفیق نے اس عمل کو الارمنگ قرار دیتے ہوئے کہا کہ قائداعظم کے پاکستان کو غیرملکیوں کے قدموں میں پھینکنے والوں کیلئے قائداعظم کی تصویر کی کیا قیمت اور اہمیت ہو گی اور یہ عمل ظاہر کر رہا ہے کہ ایوان صدر کے عزائم کیا ہیں۔ مسلم لیگ (ن) کے صوبائی فنانس سیکرٹری مرزا عبدالقیوم نے کہا کہ کیا ایسے حکمرانوں کو مسند اقتدار پر رہنے کا حق ہے؟ رکن پنجاب اسمبلی شمائلہ رانا نے کہا کہ اس عمل پر ہمیں اپنی آنکھیں کھولنے اور پاکستان کے مستقبل کے فکر کرنے کی ضرورت ہے۔ دریں اثناء صدر کے ترجمان فرحت اللہ بابر نے ایوان صدر سے قائداعظم کا پورٹریٹ ہٹائے جانے کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایوان صدر سے قائداعظم کی تصویر ہٹائے جانے کی خبر جھوٹ پر مبنی ہے۔ ترجمان وزیراعظم ہائوس نے بھی کہا ہے کہ وزیراعظم ہائوس سے قائداعظم کی تصاویر نہیں ہٹائی گئیں۔
ماخذ