اسلامی جمہوریہ پاکستان زندہ باد
HakimKhalid's Blog

جو تجھے زکام ہوتا تو مجھے بخار ہوتا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

تجھے مجھ سے مجھ کو تجھ سے جو بہت ہی پیار ہوتا
نہ تجھے قرار ہوتا نہ مجھے قرار ہوتا

ترا ہر مرض الجھتا میری جانِ ناتواں سے
جو تجھے زکام ہوتا تو مجھے بخار ہوتا

جو میں تجھ کو یاد کرتا تجھے چھینکنا بھی پڑتا
میرے ساتھ بھی یقیناً یہی بار بار ہوتا

کسی چوک میں لگاتے کوئی چوڑیوں کا کھوکھا
تیرے شہر میں بھی اپنا کوئی کاروبار ہوتا

غم و رنج عاشقانہ نہیں کیلکو لیٹرانہ
اسے میں شمار کرتا جو نہ بے شمار ہوتا

وہاں زيرِ بحث آتے خط و خال و خوئے خوباں
غمِ عشق پر جو انور کوئی سيمينار ہوتا

٭…٭…٭
 انور مسعود

اور آخر کار۔۔۔۔۔۔۔ جی کا جانا ٹھہر گیا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔ صبح گیا یا شام گیا

 
عروج کے بعد زوال تو آنا ہی ہوتا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔کیونکہ ہر کمال را زوال۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جی " کا جانا ٹھہر گیا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ صبح گیا یا شام گیا"
 
جب دروغ گوئی فن کا درجہ حاصل کر لے اور اپنے مفاد کے لیے ساری اخلاقی حدیں عبور کر لی جائیں تو ایسی صورت حال پیدا ہو ہی جاتی ہے۔
 
Goodbye Mr Zardari…….
اس صورت میں جبکہ آپ الطاف بھائی کے مشورے پر فوری عمل کر ڈالیں ورنہ۔۔۔۔۔۔۔۔
Badbye Mr Zardari…….
 
اللہ تعالیِ سے دعا ہے کہ آئندہ صدر اسلامی جمہوریہ پاکستان وطن عزیز اور سترہ کروڑ عوام کی امنگوں کے عین مطابق ہو آمین۔۔۔۔۔۔۔۔ثم۔۔۔۔۔۔۔۔۔آمین

طب یونانی ایک قومی ورثہ ہے جس کا ہرممکن تحفظ کیا جائے گا ۔کونسل آف ہربل فزیشنز پاکستان

لاہور( ثناء نیوز )ملٹی نیشنل کمپنیوں کی ایماء اوربعض مفاددپر ست عناصر کی ملی بھگت سے طبی میڈیسن ایکٹ کو ڈرگ ایکٹ 1976ء کا حصہ بنا کر لاگوکیا جارہا ہے جسے ہرگز تسلیم نہیں کیا جاسکتا ۔یاد رہے کہ طب یونانی کے خلاف اس سازش کی نشاندہی کونسل ہذا کئی سال بیشتر کر چکی ہے۔طب یونانی ایک قومی ورثہ ہے جس کا ہرممکن تحفظ کیا جائے گا ۔ اطبائے پاکستان کو صرف اور صرف علیحدہ طبی میڈیسن ایکٹ ہی قابل قبول ہوگا اس امر کا اظہار مرکزی سیکرٹری جنرل کونسل آف ہربل فزیشنز پاکستان قاضی ایم اے خالد نے کونسل کے ہنگامی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیاانہوں نے کہا کہ دنیا بھر کے قوانین اوروطن عزیز کے ڈرگ ایکٹ کے مطابق بھی دیسی جڑی بوٹیوں سے تیار شدہ ہربل میڈیسنز’’ڈرگ‘‘کے زمرے میں نہیں آتیںلہذاطبی میڈیسن ایکٹ کو 1976کے میڈیسن ایکٹ سے منسلک کرنے سے چند ایک بڑے طبی دواساز اداروں کو توفائدہ پہنچ سکتا ہے لیکن اجتماعی طور پرطب یونانی اور 55ہزار سے زائد اطباء کرام تباہی و بربادی سے ہمکنارہوں گے۔ اس وقت عالمی ادارہ صحت(WHO) کی رپورٹوںکے مطابق دنیا کی 86فیصد آبادی اور پاکستان کی 76فیصد آبادی ہربل (یونانی) ادویات استعمال کرتی ہے ۔پاکستان کا مسئلہ صحت طب یونانی کو شامل کئے بغیر کسی طور حل نہیں ہو سکتا۔یونانی طریق علاج کو قواعدو ضوابط کے تحت منظم کرنے کے قوانین بنانے کا اطباء نے ہمیشہ خیر مقدم کیا ہے لیکن ایلوپیتھک اور طب یونانی کے مسائل و ضروریات ایک دوسرے سے جدا ہیںجس کا ادراک حکومت اور متعلقہ حکام کو کرنا چاہئے اور ایلوپیتھک طریقہ علاج کیلئے وضع کردہ ڈرگ ایکٹ 1976ء کو طب یونانی و اطباء پر نافذ کرنے کے اقدام سے باز رہنا چاہئے بصورت دیگر اپنے حقوق کے تحفظ کیلئے بھر پور مزاحمت سمیت تمام اطباء و طبی تنظیمیں متفقہ لائحہ عمل اختیار کریں گی۔ابتدائی طور پر اطباء کے تحفظات کے اظہار کیلئے کونسل ہذا کے وفود جلد ہی وفاقی وزیرصحت‘سینیٹرز‘ ممبران قومی اسمبلی اور دیگر اعلیٰ حکام سے ملاقات کریں گے۔اس موقع پرحکیم محمد رضوان ‘حکیم محمد صابرآف گوجرانوالہ‘حکیم محمد یوسف اورحکیم محمد اجمل نے بھی خطاب کیا۔
٭…٭…٭
news@healthlineint.co.cc
 
 
 

آج (29اکتوبر کو)سورائسس ( چنبل) کا عالمی دن منایا جارہا ہے


پاکستان سمیت دنیا بھر میں 125ملین سے زائد افراد سورائسس میں مبتلا ہیں
 چنبل لاعلاج نہیں طب یونانی میں اس کا شافی علاج موجود ہے:حکیم قاضی ایم اے خالد
سو سے زائد جڑی بوٹیاں سورائسس و دیگر جلدی امراض میں موثر ہیں:کونسل آف ہربل فزیشنز پاکستان

لاہور 29اکتوبر:آج سورائسس (Psoriasis)یعنی چنبل کا عالمی دن منایا جارہا ہے جس کا مقصد اس مرض کے بارے میں عوام میں شعور اجاگر کرنا ہے۔دنیا بھر میں125ملین سے زائد افراد اس مرض میں مبتلا ہیں۔طب یونانی (اسلامی) میں سورائسس اور دیگر جلدی امراض کے علاج کیلئے سو سے زائد تحقیق شدہ جڑی بوٹیاں موجود ہیں۔اس امر کا اظہار مرکزی جنرل سیکرٹری کونسل آف ہربل فزیشنز پاکستان اور یونانی میڈیکل آفیسر حکیم قاضی ایم اے خالد نے ورلڈ سورائسس ڈے کے حوالے سے ہیلتھ پاک کے زیر اہتمام’’ ہربس یوزفل ان ڈرماٹولوجیکل تھیراپی’’ کے عنوان سے منعقدہ ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔انہوں نے کہا کہ اہل یورپ سورائسس کا زیادہ شکار ہیں۔اس جلدی مرض میںسوزش ہو کر جلد کی سطح کھردری ہو جاتی ہے اورمچھلی کی طرح جلد کے خشک چھلکے اترتے ہیں ۔ آغاز مرض میں چھوٹے چھوٹے سرخ گلابی دانے بنتے ہیں ان پر چھلکوں کی تہہ جم جاتی ہے اور متاثرہ مقام کی جگہ بڑھتی جاتی ہے۔ خارش سے سفید چھلکے اترکر خون بھی خارج ہونے لگتا ہے۔سخت تکلیف دہ یہ مرض ضدی مرض ہے اور جلدی نہیں جاتا ۔اس کا زیادہ زور کہنیوں’بازؤں’ گھٹنوں’ ٹانگوں’ سر اور کمر کے حصوں پر ہوتا ہے ۔گرمیوں کی نسبت سردیوں میں زیادہ ہوتا ہے۔طب مغرب(ایلوپیتھک)کے نزدیک اس مرض کا باعث ایک وائرس ہے۔جبکہ طب یونانی اسلامی کے مطابق اس کا شمار سوداوی امراض میں ہوتا ہے یہ بچوں اور بوڑھوں میں کم ہوتا ہے ۔ البتہ نوجوانوں میں جن کی عمر 20سال سے لے کر چالیس سال کی عمر میں زیادہ ہوتا ہے۔طب یونانی اسلامی کے نزدیک خلط سودا کے سبب ہوتا ہے ۔ زہریلا سوداوی بدنی موادجب جسم خارج کرنے میں ناکام رہتا ہے تویہ سوداوی مواد جلد کو متاثر کرتا ہے ۔ اور دانوںو چنبل کی صورت نمودار ہونے کی کوشش کرتا ہے ۔ اس کے علاوہ نظام ہضم کی خرابی ‘میلا کچیلا رہنا ‘قبض شراب نوشی ‘جذباتی تناؤ’ ذہنی دباؤ’ ڈیپریشن سے بھی جلد کی سرگرمی بڑھ کر یہ مرض ہو سکتا ہے ۔ایلو پیتھک ماہرین کے مطابق اس مرض کے علاج کے سلسلے میں ابھی تحقیق جاری ہے اور ہنوز اس کا شافی علاج ان کے پاس نہیں ہے ۔لیکن طب یونانی اسلامی یعنی ہربل سسٹم آف میڈیسن میں سورائسس کا مکمل شافی علاج موجود ہے۔اسگندناگوری جڑی بوٹی کا اندرونی و بیرونی استعمال صدیوں سے مستعمل ہے۔چنبل اور دیگر جلدی امراض میں اسگند ناگوری کی افادیت جدید تحقیقات نے بھی ثابت کر دی ہے۔ عمائدین طب کے معمول مطب چند نسخے افادہ عوام کیلئے پیش کئے جارہے ہیںجن کے تین ماہ مسلسل استعمال سے لاتعداد افرادسورائسس سے صحت یاب ہو چکے ہیں۔(امید ہے اس سے سابق سیکرٹری ہیلتھ کی یہ شکایت کہ حکیم مجرب نسخے مخفی رکھتے ہیں دور ہو جائے گی )نسخہ نمبر ایک۔رسو ت ‘چاکسو’نرکچور’ کتھ سفید ہر ایک 3 گرام چاروں اجزا پیس کر آدھے گلاس پانی میں جوش دے کر چھان کر صبح نہار منہ پی لیا جائے ۔ سہ پہر کو قرص رسوت ایک عدد تازہ پانی لے کر کھا لیں اور شربت عشبہ خاص دو چمچے پی لیں ۔نسخہ نمبر 2گل منڈی دس عدد’چرائتہ چھ گرام ۔آدھے گلاس پانی میں جوش دے کر چھان کر شربت عناب دو چمچے ملا کر صبح نہار منہ پی لیں ۔اس کے علاوہ اجوائن چالیس گرام ‘پھٹکری سفیددس گرام’ توتیا ئے سبزدس گرام ان تمام چیز وں کو لوہے کی کڑاہی میں آگ پر اتنی دیر رکھیں کہ وہ سیا ہ ہو جائے ۔ پھر مثل سرمہ کر کے ویزلین ملا کر مرہم تیا ر کر لیں(بہتر ہے کسی ماہر طبیب سے تیار کروالیں۔) گرم پانی سے متاثرہ جلد صاف کریںاور یہ مرہم لگائیں یااگر تیار نہ کر سکیں تو حکنول لگائیں۔
٭…٭…٭
news@healthlineint.co.cc